سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 452 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 452

سيرة النبي علي 452 جلد 1 استقـ صلى الله نامت کے بارہ میں رسول کریم ع کے صلى الله ارشادات عليه حضرت مصلح موعود نے 30 اگست 1918 ء کو خطبہ جمعہ دیتے ہوئے فرمایا :۔”اب میں رسول کریم ﷺ کے متعلق بتاتا ہوں کہ آپ نے استقامت کی نسبت کس قدر زور دیا ہے۔حدیث میں آتا ہے وَكَانَ أَحَبُّ الدِّيْنِ إِلَيْهِ مَادَاوَمَ عَلَيْهِ صَاحِبُه ! کہ آنحضرت ﷺ کو وہ عمل سب سے زیادہ پسند اور پیارا تھا جس پر مداومت اختیار کی جاتی۔ایک دفعہ حضرت عائشہ صدیقہ کے پاس ایک عورت آئی اور اپنی عبادت گزاریوں کا ذکر کرنے لگی۔آنحضرت یہ تشریف لائے تو آپ نے پوچھا کیا ذکر ہے؟ حضرت عائشہؓ نے عرض کیا کہ یہ عورت عبادت گزار ہے بہت عبادت کرتی ہے۔آپ نے فرمایا خدا کو تو وہ عمل پسند ہے جس میں مداومت اختیار کی جائے 2۔اسی طرح عبداللہ ابن عمر و ابن العاص کی روایت ہے کہ انہیں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ يَا عَبُدَ اللهِ لَا تَكُنُ مِثْلَ فُلان كَانَ يَقُومُ مِنَ اللَّيْلِ فَتَرَكَ قِيَامَ اللَّيْلِ 3۔اے عبداللہ ! فلاں کی طرح نہ ہو جو پہلے قیام لیل کیا کرتا تھا اور پھر اس نے چھوڑ دیا۔معلوم ہوتا ہے یہ بات صلى الله آنحضرت کو بہت ہی ناپسند تھی کہ جو عمل اختیار کیا جائے اس پر مداومت نہ اختیار کی جائے۔اسی لئے آپ نے عبداللہ کے سامنے اس شخص کا نام لے کر کہا کہ اس کی طرح نہ صلى الله کرنا۔ورنہ آپ ﷺ کی عادت نہ تھی کہ کسی کا نام لے کر اُس کا عیب بیان کریں۔آگے حضرت عبد اللہ نے اس بات کا لحاظ رکھا کہ روایت میں اس کا نام نہیں ظاہر کیا۔اس سے ظاہر