سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 453
سيرة النبي علي 453 جلد 1 ہے کہ اگر کوئی ہر روز دورکعت نفل پڑھے تو وہ بہتر ہے بہ نسبت اس کے جو ایک ہی دن میں سویا پچاس یا چالیس رکعت پڑھ کر پھر چھوڑ دے۔اسی طرح وہ شخص جو ہر مہینہ میں ایک روزہ رکھتا ہے۔بہتر ہے اُس کی نسبت جو ایک دفعہ تو سال بھر تک روزے رکھتا ہے اور پھر نام نہیں لیتا یا اسی طرح ایک ایسا شخص جو ایک دن محنت کرتا کرتا چوبیس گھنٹہ ختم کر دیتا ہے لیکن پھر اس کام کی طرف توجہ نہیں کرتا۔اس کی نسبت وہ اچھا ہے جو روزانہ تھوڑا تھوڑا کرتا رہتا ہے۔پس ہر کام میں استقامت کی ضرورت ہے اور استقامت کے سوا کوئی عمل نتیجہ خیز نہیں ہوسکتا۔رسول کریم علیہ نے اپنے اصحاب کو مخاطب کر کے فرما یا إِنَّ الدِّينَ يُسْرٌ وَلَنْ يُشَادُ الدِّينَ اَحَدٌ إِلَّا غَلَبَهُ فَسَدِّدُوا وَقَارِبُوا وَأَبْشِرُوا وَاسْتَعِيْنوا 4 که دین آسان ہے لیکن اگر کوئی اس میں سختی کرے گا تو دین اس پر غالب آ جائے گا۔اس لئے میانہ روی اختیار کرو اور نزدیک رہو اور ثواب کی امید رکھو اور استقامت مانگو۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اعمال میں غلو کی ضرورت نہیں۔بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ جو عمل بھی کیا جائے ہمیشہ کیا جائے کیونکہ نجات زیادہ عملوں سے نہیں ہوگی بلکہ خدا کے فضل سے ہوگی۔“ الفضل 17/21 ستمبر 1918ء) 66 2،1 بخاری کتاب الایمان باب احب الدین الی الله ادومه صفحه 10 حدیث نمبر 43 مطبوعہ ریاض 1999 الطبعة الثانية 3:بخارى كتاب التهجد باب ما يكره من ترك قيام الليل صفحہ 184 حدیث نمبر 1152 مطبوعہ ریاض 1999 ء الطبعة الثانية 4 بخاری کتاب الایمان باب الدين يسر صفحہ 10،9 حدیث نمبر 39 مطبوعہ ریاض 1999ء الطبعة الثانية