سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 451 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 451

سيرة النبي علي 451 جلد 1 ضروری نہیں کہ منبر پر چڑھ کر ہی وعظ کرے بلکہ جب اس پر کسی کی نظر پڑتی ہے تو اسے وہ مجسم وعظ نظر آتا ہے جس کا اثر اس پر پڑتا ہے۔تو وہ رسول کریم ﷺ کا وجود مبارک ہی تھا جو دوزخ و جنت دونوں کو سامنے لاکھڑا کرتا تھا مگر لوگوں کے فہم کا لحاظ رکھتے ہوئے یہ لوگ بھی خطبہ سے کام لیتے ہیں اور ان کو سمجھا دیتے ہیں۔پھر زبانی وعظ کا سلسلہ اس لئے جاری کیا گیا کہ ہر واعظ کی وہ حالت نہیں ہوا کرتی جو خدا کے خاص صلى الله بندوں کی ہوا کرتی ہے۔رسول کریم ﷺے علاوہ اس تعلیم کے جس کے بغیر نجات نہیں آپ کا وجو د مبارک بھی مجسم وعظ تھا مگر اور واعظ جو کھڑا ہوتا ہے تو اس کا وجود اس بات کے لئے کافی نہیں ہوتا اس لئے وہ زبانی بھی کہتا ہے اور اسی کا نام خطبہ ہے۔پس خطبات کے ذریعہ مسلمانوں کو اسلام کے احکام کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے اور یہ وہ حکمت ہے جو اسلام نے خطبات میں رکھی ہے۔“ (الفضل 9 جولائی 1918ء) 1: مسلم كتاب التوبة باب فضل دوام الذكر والفكر في امور الاخرة والمراقبة وجواز ترک ذلك في بعض الاوقات صفحہ 1191 ، 1192 حدیث نمبر 6966 مطبوعہ ریاض 2000ء الطبعة الثانية میں یہ الفاظ ہیں لَصَافَحَتْكُمُ الْمَلَائِكَةُ عَلَى فُرُشِكُمْ