سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 450
سيرة النبي علي 450 جلد 1 صلى الله رسول کریم ع کا وجود مجسم وعظ حضرت مصلح موعود 21 جون 1918 ء کو خطبہ جمعہ دیتے ہوئے فرماتے ہیں:۔ایک صحابی نے آنحضرت ﷺ کے حضور عرض کیا کہ میں تو منافق معلوم ہوتا ہوں۔آپ نے فرمایا کس طرح؟ اس نے کہا جب حضور کے سامنے آتا ہوں تو دوزخ اور جنت دونوں میرے سامنے آجاتے ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ جنت ہے۔اگر میں خدا کی اطاعت کروں گا تو اس میں مجھ کو جگہ دی جائے گی اور اگر اس کی نافرمانی کروں گا تو یہ دوزخ ہے اس میں مجھے ڈال دیا جائے گا لیکن جب حضور کے پاس سے چلا جاتا ہوں تو یہ حالت نہیں رہتی۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اگر تمہاری ہر وقت ایک سی حالت رہے تو پھر تم ہلاک نہ ہو جاؤ 1۔اب دیکھئے وہ کیا چیز تھی جو اس صحابی کے سامنے دوزخ اور جنت کو لا کھڑا کرتی تھی ؟ وہ رسول کریم ﷺ کی صورت مبارک تھی جس کو دیکھ کر اقرار کرنا پڑتا تھا کہ کوئی ضرور خدا ہے جس نے اس شخص کو اپنا رسول بنا کر ہماری اصلاح و ہدایت کے لئے بھیجا ہے اور جو ہمیشہ اپنے رسولوں کو بھیجا کرتا ہے جو آکر لوگوں کو ہلاکت سے بچاتے ہیں۔جس طرح واعظ خطبہ سے دوسروں کو کسی امر کی طرف توجہ دلاتا ہے اور الفاظ کو اپنے خیالات اور منشاء کے ادا کرنے کا ذریعہ بنا تا ہے اسی طرح خدا کے نبی اپنی شکل کے ذریعہ سے وعظ کرتے ہیں۔ان کی شکل و صورت مجسم وعظ ہوتی ہے۔وہ شخص جس کو یہ درجہ حاصل نہیں ہے بے شک اس کے لئے ضروری ہے کہ کھڑا ہو کر وعظ کرے اور الفاظ کے ذریعہ دوسروں کو متاثر کرے۔مگر وہ جس کا جسم اس کے الفاظ ہوں جس کے الفاظ اس کے اعمال ہوں اس کے لئے