سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 445
سيرة النبي علي 445 جلد 1 مخاطب کرنا پسند نہ کیا۔لیکن نادان نہیں جانتے کہ یہ نہایت پیار اور محبت کا کلام ہے۔کسی سے ناراضگی اور ناپسندیدگی کیوں کی جاتی ہے؟ اسی لئے کہ اس پر اس کا اظہار ہو جائے اور وہ سمجھ لے کہ میری فلاں حرکت پر ناراضگی ہوئی ہے اور یہ حرکت بعض دفعہ بداخلاقی سمجھی جاتی ہے۔لیکن اگر کسی کی کوئی بات ناپسند ہو اور اس ناپسندیدگی کا اظہار اس پر نہ کیا جائے تو یہ بد خلقی نہیں بلکہ اعلیٰ درجہ کے اخلاق میں سے ہے۔مثلاً کوئی کسی کے بیٹے کو مار رہا ہو اور وہ پاس سے گزرے تو اپنے بیٹے کو پیٹتا دیکھ کر اسے ناراضگی تو طبعا ہونی چاہئے اور ہوگی لیکن اگر وہ اس کو ظاہر نہ ہونے دے اور مارنے والے سے اپنی ناراضگی کو بالکل چھپائے رکھے تو یہ اس کا خلق ہوگا نہ کہ بدخلقی۔دنیا میں ناراضگی کا اظہار کئی طریق سے کیا جاتا ہے۔کئی اس کا اظہار مارنے کے ذریعہ کرتے ہیں، کئی گالیوں کے ذریعہ کرتے ہیں، کئی درشت اور کرخت آواز سے کرتے ہیں اور کئی چہرہ کی بناوٹ سے کرتے ہیں۔اب یہ دیکھنا چاہئے کہ آنحضرت ﷺ نے جو اظہار نا پسندیدگی کیا تو کس طریق سے کیا۔اسی طریق سے کہ تیوری چڑھائی اور منہ پھیر لیا لیکن یہ ایسا طریق تھا کہ جس سے اندھے پر ہرگز ظاہر نہیں ہو سکتا تھا کہ اس کی کسی حرکت پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا گیا ہے کیونکہ نہ تو وہ منہ کی بناوٹ کو دیکھ سکتا تھا اور نہ ہی منہ پھیرنے کو معلوم کرسکتا تھا۔پھر اس کے ساتھ آنحضرت ﷺ نے بد خلقی کیا کی؟ اس کے ساتھ بدخلقی تو تب ہوتی کہ اس کو کوئی گالی دی جاتی یا سختی سے کچھ کہا جاتا لیکن رسول کریم ﷺ نے ایسا نہیں کیا بلکہ ایسا طریق اختیار کیا جس کا اسے احساس تک نہ ہوا۔پس یہ اعلیٰ درجہ کا خلق ہے نہ کہ بد خلقی۔یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس آیت میں غائب کے صیغے استعمال کئے ہیں کیونکہ ان صیغوں میں یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ گویا اللہ تعالیٰ اس وقت رسول کریمہ سے مخاطب نہیں بلکہ دوسرے لوگوں سے مخاطب ہے اور دوسرے لوگوں سے خطاب یہ ظاہر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے اخلاق حسنہ کا الله