سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 444 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 444

سيرة النبي علي 444 جلد 1 کرے گا۔“ (حقیقة الرؤیا صفحہ 14 روز بازار الیکٹرک پریس ہال بازار امرتسر 1918ء) مذکورہ لیکچر میں ہی رسول کریم ﷺ کے اخلاق پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا:۔آپ لوگ اس بات کو خوب یاد رکھیں کہ ہم لوگ جس نبی کے پیرو ہیں وہ بڑے ہی اعلیٰ اخلاق والا انسان تھا۔آپ ایسے اخلاق والا نہ کوئی پہلے ہوا ہے اور نہ کوئی ہوسکتا ہے۔پھر آپ کے بروز حضرت مسیح موعود کے بھی بے نظیر اخلاق تھے۔اب تم خود ہی غور کر لو کہ ایسے نبیوں کے پیرو اور مرید ہو کر تمہیں کیسے اخلاق دکھانے چاہئیں۔مجھے مسلمان کہلانے والوں پر تعجب ہی آیا کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے رسول کریم ﷺ کی کوئی خوبی آپ کی طرف منسوب نہیں ہونے دیتے۔قرآن کریم میں آنحضرت ﷺ کی بیشمار خوبیاں بیان کی گئی ہیں مگر یہ سب حضرت عیسی کی طرف منسوب کرتے ہیں اور آنحضرت ﷺ کے متعلق مفسرین بڑے شوق سے بیان کرتے ہیں کہ فلاں فلاں آیت میں نَعُوذُ بِاللهِ ) آپ پر عتاب نازل ہوا۔خدا تعالیٰ تو فرماتا ہے قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ 3 کہ لوگوں کو کہہ دو کہ اگر تم اللہ کے محبوب بننا چاہتے ہو تو مجھے اپنا محبوب بناؤ مگر وہ کہتے ہیں کہ آپ پر خدا تعالیٰ عتاب ہی عتاب کرتا رہا ہے۔وہ جن آیتوں کو عتابی قرار دیتے ہیں ان میں سے ایک کو پڑھ کر تو مجھے اتنا مزہ آتا ہے کہ جی چاہتا ہے کہ اگر رسول اللہ ﷺ سامنے ہوں تو آپ کو محبت سے چمٹ ہی جاؤں۔خدا تعالیٰ آپ کے اخلاق کے متعلق ایک بات بیان فرماتا ہے اور وہ یہ کہ عَبَسَ وَتَوَلَّى أَنْ جَاءَهُ الْأَعْمٰى 4۔اس نے تیوری چڑھائی اور منہ پھیر لیا کہ اس کے پاس ایک اندھا آ گیا۔مفسرین کہتے ہیں یہ عقابی آیت ہے اور اس میں خدا نے آنحضرت ﷺ کو یہ سزا دی ہے کہ آپ کو صیغہ غائب سے مخاطب کیا ہے اور ناراضگی کی وجہ سے نام نہیں لیا کیونکہ جب آپ کے پاس اندھا آیا تو آپ نے تیوری چڑھائی اور اس کی طرف سے منہ پھیر لیا۔اس پر خدا تعالیٰ کو ایسا غصہ آیا کہ آپ کو