سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 446
سيرة النبي علي 446 جلد 1 ذکر کرتا ہے کیونکہ کیا یہ ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے اس برگزیدہ رسول کی کوئی معمولی غلطی دیکھ کر (اگر اس غلطی کو مانا جائے ) لوگوں کو اس غلطی پر آگاہ کر کے اس پر اسے شرمندہ کرے گا؟ میرے نزدیک تو غائب کے صیغے ہی بتا رہے ہیں کہ عتاب نہیں خوبی کا اظہار ہے اور خدا تعالیٰ باقی دنیا کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ دیکھو میرے رسول کے کیسے اخلاق ہیں کہ ایک اندھے کی ایک بات کو اس نے نا پسند کیا تو اس کا اظہار اس پر نہ ہونے دیا۔اگر عتاب ہوتا تو پھر رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کیا جا تا تا یہ نہ ثابت ہو کہ خدا تعالیٰ اپنے محبوب کی شکایت دوسروں کے پاس کرتا ہے۔یہ بات میں نے اس لئے بتائی ہے کہ ہم اس نبی کی امت ہیں جس کے ایسے اعلیٰ درجہ کے اخلاق تھے کہ آپ نہ چاہتے تھے کہ میری بات سے کسی کی دل شکنی ہو۔پس تمہاری بھی ہر ایک بات اور ہر ایک حرکت ایسی ہونی چاہئے کہ جس سے کسی کی دل شکنی نہ ہو۔“ 66 (حقیقۃ الرؤیا صفحہ 19 تا 21 روز بازار الیکٹرک پریس ہال بازار امرتسر 1918ء) رسول کریم ﷺ نے علم کی اقسام کا کس لطیف انداز میں ذکر فر مایا اس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود اسی لیکچر مذکورہ بالا میں فرماتے ہیں :۔دنیا میں دو ہی علم ایسے ہیں جن کے نہ جاننے سے ہر فرد واحد کو نقصان ہوسکتا ہے، باقی کے نہ جاننے سے ہر ایک شخص کو نقصان نہیں ہوتا۔ہاں ان کے جاننے سے فائدہ ضرور ہوتا ہے اور وہ دو علم وہی ہیں جو رسول کریم ﷺ نے فرمائے ہیں۔الْعِلْمُ عِلْمَانِ عِلْمُ الاَبُدَانِ وَعِلْمُ الْاَدْيَانِ۔اصل میں علم دو ہی ہیں ایک جسموں کا علم اور دوسرے دینوں کا علم اور یہ دونوں اس قسم کے ہیں کہ ان کے نہ جاننے سے نقصان پہنچتا ہے۔چنانچہ رسول کریم ﷺ کے متعلق ایک واقعہ لکھا ہے کہ آپ نے کہیں جاتے ہوئے دیکھا کہ درمیان میں ایک شخص کھڑا ہے اور اس کے اردگرد بڑا ہجوم ہے۔آپ نے فرمایا یہاں کیا ہے کیوں لوگ کھڑے ہیں؟ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ! ایک علامہ یعنی بڑا عالم ہے اس کے ارد گرد لوگ جمع ہیں۔آپ نے فرمایا کس علم کا عالم