سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 443
سيرة النبي علي 443 جلد 1 صلى الله رسول کریم ﷺ کی مجالس رسول کریم ﷺ کی مجالس کیسی ہوتی تھیں اس کا نقشہ حضرت مصلح موعود نے 27 دسمبر 1917ء کی تقریر بر موقع جلسہ سالانہ قادیان میں یوں کھینچا :۔صلى الله و کسی گزشتہ جلسہ کے موقع پر میں نے بتایا تھا کہ ایک دفعہ مسجد میں رسول کریم ﷺ نے کچھ لوگوں کو فرمایا کہ بیٹھ جاؤ۔عبداللہ بن مسعودؓ جو گلی میں جا رہے تھے آنحضرت یہ کی آواز سن کر وہیں بیٹھ گئے 1۔اطاعت اور فرمانبرداری یہ ہوتی ہے۔ایک اور دفعہ کا ذکر ہے کہ آنحضرت ﷺ کی مجلس میں تین شخص آئے ، مجلس میں جگہ نہ تھی ، ان میں سے ایک تو واپس چلا گیا، ایک پیچھے ہی بیٹھ گیا اور ایک نے کوشش کر کے آگے جگہ حاصل کر لی۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا خدا تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ اس مجلس میں تین شخص آئے تھے۔ان میں سے ایک نے جب دیکھا کہ اس تک میری آواز نہیں پہنچتی تو وہ چلا گیا، دوسرے نے جانے سے شرم کی اور بیٹھ گیا ، تیسرے نے کوشش کی اور گھس کر آگے آ بیٹھا۔جو چلا گیا خدا نے اس سے منہ پھیر لیا اور جو جانے سے شرما گیا خدا نے بھی اس کے گناہوں سے چشم پوشی کی اور جو کوشش کر کے آگے آ بیٹھا خدا نے بھی اس کو اپنے قرب میں جگہ دی 2۔پس اگر تم میں سے بھی کسی کو آواز نہ آئے تو اس کیلئے یہ جائز نہیں کہ اٹھ کر چلا جائے بلکہ وہ خود اپنے نفس کو وعظ کرے کہ اے نفس ! تیرا ہی کوئی گناہ ہوگا جس کی وجہ سے مجھے پیچھے جگہ ملی ہے میں جو آگے نہیں بیٹھ سکا تو یہ میری ہی ستی ہے جس کی یہ سزا مجھے مل رہی ہے کہ آواز نہیں آتی۔جب وہ اپنے نفس کو یہ وعظ کرے گا تو دوسرے موقع پر وہ پیچھے نہیں رہے گا بلکہ سٹیج کے پاس ہی بیٹھنے کی کوشش