سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 424
سيرة النبي علي 424 جلد 1 معلوم ہوگا کہ انہوں نے بھی اپنے بڑوں کو اتنا بڑا درجہ دیا کہ خدائی تک دے دی۔ان کا یہ فعل برا ہے اور اس میں شک نہیں کہ وہ غلطی پر ہیں کیونکہ وہ شرک کے مرتکب ہوئے ہیں۔لیکن ہمیں اس جماعت پر تعجب آتا ہے جس نے ایسا پیشوا پایا جو سب سے بڑا ہے مگر اس نے اپنے محسن کو اس کے اصل درجہ سے بھی گھٹانا شروع کر دیا۔بہت سے مسائل ایسے ہیں کہ اگر رسول کریم ﷺ کی حقیقی عظمت کو سمجھتے تو غلطی میں نہ پڑتے۔مجھے حضرت خلیفہ اول کے وقت میں بار بار لیکچروں کے لئے باہر جانے کا اتفاق ہوا۔میں نے سننے والے لوگوں کو اکثر یہی بتایا کہ ہمارے تمہارے اختلاف کا تصفیہ ایک آسان طریق سے اس طرح ہو سکتا ہے کہ دیکھا جائے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور عظمت ہمارے اعتقادات کے رو سے ثابت ہو تی ہے یا کہ تمہارے اعتقادات سے۔اگر آپ کی عظمت اور عزت کا خیال رکھا جائے تو سب اختلاف مٹ جاتے ہیں۔حیات و وفات مسیح کے مسئلہ میں دیکھنا چاہئے کہ آنحضرت ﷺ کی عزت اور عظمت کس میں ہے ؟ آیا اس میں آپ کی عظمت ہے کہ جب آپ کی امت بگڑ جائے تو اس کی اصلاح کے لئے ایک اور شخص کو لایا جائے جو براہ راست آنحضرت علی سے کوئی تعلق نہیں رکھتا، اس کے نبوت ورسالت پانے میں آپ کا کوئی تعلق نہیں یا اس میں آپ کی عزت ہے کہ جب آپ کی امت بگڑے تو آپ ہی کے غلاموں میں سے کوئی شخص اصلاح کے لئے کھڑا کر دیا جائے؟ پھر کیا آپ کی اس میں عزت ہے کہ آپ کے آنے سے وہ فیضانِ نبوت جو آدم کے وقت سے آنحضرت ﷺ تک ابناء آدم کو مل رہا تھا بند ہو گیا اور آپ نَعُوذُ بِاللهِ اس فیض کے دریا میں روک ہو گئے اور آپ کی امت اس سے محروم کر دی گئی یا اس میں کہ آپ کی کامل اتباع اور پوری فرمانبرداری سے یہ رتبہ حاصل ہو سکتا ہے؟