سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 425 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 425

سيرة النبي علي 425 جلد 1 ان تمام مسائل میں جو ہم میں اور غیرا حمدیوں میں اختلافی ہیں اگر یہ دیکھا جائے کہ کن مسائل کو تسلیم کرنے سے آنحضرت ﷺ کی عزت ہوتی ہے اور کن سے ہتک تو معلوم ہو جائے گا کہ حق پر کون ہے۔غرض آپ کے درجہ کے نہ سمجھنے سے بڑا اختلاف پڑ گیا ہے اور اکثر لوگوں نے ٹھوکر کھائی ہے۔اگر ان کو آنحضرت میے کے محاسن معلوم ہوتے تو ضرور تھا کہ محبت پیدا ہوتی کیونکہ ہمیشہ محبت اور عشق خوبیوں کو دیکھنے سے ہی پیدا ہوتا ہے اور یہ ہرگز نہیں ہوتا کہ کسی شخص کی نہ کوئی خوبی معلوم ہو اور نہ اس کے محاسن اور پھر انسان اس سے محبت کرے یا اس سے عشق پیدا ہو۔مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی نے بیان کیا ہے کہ بے رؤیت کبھی عشق پیدا نہیں ہوسکتا اور دیکھنا صرف آنکھوں سے ہی نہیں ہوتا بلکہ علم سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔مثلاً انسان کسی ایسے بہادر آدمی کا قصہ پڑھتا ہے جس کو گزرے سینکڑوں برس ہو جاتے ہیں مگر پڑھنے والے کے دل میں اُس کے حالات پڑھ کر خاص کیفیات پیدا ہو جاتی ہیں۔اسی طرح آنحضرت ﷺ کی زندگی کے پاک حالات کو دیکھا جائے۔آپ کا اٹھنا بیٹھنا ، چلنا پھرنا، کھانا پینا ، جا گنا سونا ، لباس اور طرزِ ماند و بود، میل و ملاقات کو آنکھوں کے سامنے لایا جائے۔جب یہ باتیں صحیح طور پر معلوم ہو جائیں گی تو یقیناً آپ سے ایک محبت اور عشق پیدا ہو جائے گا۔یہ رؤیت علم کے ذریعہ ہوگی۔پس اگر رسول کریم ﷺ کے حالات سے لوگ واقف ہوتے تو آپ کی ہتک پر تیار نہ ہو جاتے اور خدا سے دور نہ جا پڑتے۔اگر ان باتوں کو مد نظر رکھ کر تحقیقات مسائل ہو تو پھر کبھی کوئی جھگڑا پیدا نہیں ہوسکتا۔آپ کی محبت اور آپ سے عشق خدا کی محبت اور خدا کے عشق کا موجب ہے جیسا که فرما یا قُل اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ 2 اگر تم اس انسان کی اتباع کرو گے اور اس کے ساتھ محبت رکھو گے تو خدا تم سے محبت اور پیار