سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 423 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 423

سيرة النبي علي 423 جلد 1 صیات رسول کریم علیہ کی شان 4 مئی 1917 ء کو حضرت مصلح موعود نے خطبہ جمعہ میں سورۃ توبہ کی درج ذیل آیات کی تلاوت کی لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَءُوفٌ رَّحِيمُ - فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِيَ اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَ هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ صلى b الْعَظِيمِ 1 بعد ازاں فرمایا : - یوں تو اللہ تعالیٰ کے احسانوں ، فضلوں اور انعاموں کی گنتی نہیں۔انسان کے جسم کا کونسا حصہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے احسان کے نیچے دبا ہوا نہیں لیکن اس کے انعامات میں سے رسول کریم ﷺ کا وجود ایک بہت بڑا انعام ہے۔بہت سے لوگ ہیں جنہوں الله نے رسول کریم ﷺ کو پہچانا نہیں اور اکثر ہیں جنہوں نے سمجھا نہیں۔جو آپ کے دشمن ہیں وہ اگر آپ کی شان ارفع میں کچھ گستاخی کرتے ہیں تو وہ ایک حد تک معذور کہے جاسکتے ہیں۔لیکن افسوس ماننے کا دعویٰ کرنے والوں پر ہے کہ وہ آپ کے مرتبہ کو نہیں سمجھتے اور ایسی باتیں کرتے ہیں جو آپ کی مزیلِ شان ہوتی ہیں۔بہت سے ایسے لوگ جنہوں نے آنحضرت ﷺ کے مرتبہ کو نہیں سمجھا وہ نہ سمجھنے کی وجہ سے بہت دور جا پڑے ہیں حالانکہ خدا تعالیٰ نے آپ کو وہ شان عطا فرمائی ہے کہ مسلمان جس قدر بھی آپ کی تعریف کرتے کم تھی۔ہر ایک قوم اپنے بڑوں کو بڑا بناتی ہے۔عیسائی حضرت مسیح کو ، ہندو کرشن اور رامچند ڑ کو خدا بنا رہے ہیں۔اسی طرح دیگر مذاہب کے لوگوں کو اگر دیکھا جائے تو