سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 422
سيرة النبي علي 422 جلد 1 معلوم نہیں ہے کہ میں کس نیت سے لڑ رہا تھا۔میرے لڑنے کی یہ غرض نہ تھی کہ اسلام کی تائید اور مدد کے لئے لڑوں یا آنحضرت علی کی حفاظت کروں یا اسلام کے مخالفین کو تہہ تیغ کروں بلکہ میں اس لئے لڑتا رہا ہوں کہ میری اس قوم سے ایک پرانی ذاتی عداوت تھی جس کے نکالنے کا آج مجھے موقع ملا تھا اس لئے میں لڑا ہوں۔تھوڑی دیر بعد جو اسے زخموں کی سخت تکلیف ہوئی اور اس شدت سے ہوئی کہ وہ برداشت نہ کر سکا تو اس نے زمین پر برچھا گاڑ کر اس پر پیٹ رکھ کر خود کشی کر لی اور ہلاک ہو گیا۔اسلام نے چونکہ خود کشی کو حرام قرار دیا ہے اور وہ اس کا مرتکب ہوا اس لئے آنحضرت ﷺ کی بات درست ثابت ہوگئی کہ وہ دوزخی تھا۔وہ صحابی جو اس کا صلى الله انجام دیکھنے کے لئے اس کے ساتھ تھا یہ دیکھ کر آنحضرت ﷺ کے پاس آیا۔آپ اُس وقت مجلس میں تشریف رکھتے تھے۔اُس نے دور سے ہی کہا اَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ - آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے کیوں کہا ہے ؟ اُس نے جواب دیا يَا رَسُولَ اللَّهِ! جس شخص کی نسبت آپ نے فرمایا تھا کہ دوزخی ہے اس کے متعلق میں نے دیکھا کہ اُس کی بہادری اور جرات کی وجہ سے بعض لوگوں کے دلوں میں ایک وسوسہ پیدا ہو رہا تھا اور وہ سمجھنے لگے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یونہی اس کے متعلق فرما دیا ہے اُس وقت میں نے قسم کھائی کہ جب تک اس کا انجام نہ دیکھ لوں اس کا پیچھا نہ چھوڑوں گا۔اب وہ خودکشی کر کے مر گیا ہے اور میں حضور کو یہ سنانے آیا ہوں کہ حضور کی یہ بات درست نکلی۔یہ سن کر آنحضرت ﷺ نے بھی فرمایا اَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا الفضل 17 فروری 1917 ء ) عبده ورسولة 1 - 66 1 بخاری کتاب المغازى باب غزوة خيبر صفحہ 714،713 حدیث نمبر 4203 مطبوعہ ریاض 1999 الطبعة الثانية