سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 421 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 421

سيرة النبي علي 421 جلد 1 صلى الله رسول کریم ع کی گہری فراست کا ایک واقعہ حضرت مصلح موعود 9 فروری 1917 ء کو خطبہ جمعہ دیتے ہوئے فرماتے ہیں:۔”انسان کی حالت کچھ ایسی نازک اور کمزور ہے کہ ایک ذراسی ٹھوکر سے اس کی گل ٹوٹ جاتی ہے۔رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں ایک شخص بڑے جوش اور زور کے ساتھ مسلمانوں کی طرف سے کفار کے ساتھ لڑا اور ایسے زور سے لڑا کہ مسلمان اُس پر رشک کرنے لگے اور اُس کو دیکھ کر حیران رہ گئے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو اُس کے متعلق فرمایا کہ اگر کسی شخص نے اس دنیا میں چلتا پھرتا دوزخی دیکھنا ہو تو اس کو دیکھ لے۔اس بات سے صحابہ کو بہت حیرت ہوئی کہ یہ تو بہت مخلص اور جوشیلا معلوم ہوتا ہے اور جنگ میں خطرناک سے خطرناک جگہ پہنچ کر حملہ کرتا ہے پھر اس نے اس بہادری اور دلیری سے کفار کو قتل کیا کہ باوجود اس کے کہ رسول کریم ﷺ نے اُس کو دوزخی قرار دیا تھا بے اختیار صحابہ کے منہ سے یہ نکلنا کہ اللہ تعالیٰ اس کو جزائے خیر دے اور قریب تھا کہ بعض نئے اسلام لانے والے ٹھو کر کھا جاتے کہ رسول کریم ﷺ نے بلا وجہ اس کو دوزخی کہا ہے کہ اُس وقت ایک صحابی اٹھے اور قسم کھائی کہ جب تک میں اس شخص کا انجام نہ دیکھ لوں اس کا پیچھا نہ چھوڑوں گا۔یہ کہہ کر وہ اس کے پیچھے ہو گئے اور اسے دیکھتے رہے۔لڑائی میں اسے بہت سے زخم لگے حتی کہ زخموں کی وجہ سے وہ گر گیا۔شدت درد کے وقت لوگ اُس کے پاس آتے اور کہتے کہ تجھے جنت کی بشارت ہو! لیکن وہ کہتا مجھے جنت کی بشارت نہ دو بلکہ دوزخ کی دو۔تم تو مجھے جنت کی بشارت اس لئے دیتے ہو کہ میں بڑی بہادری سے لڑا ہوں اور خطر ناک سے خطر ناک جگہ پر حملہ کرتا رہا ہوں لیکن تمہیں یہ