سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 409 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 409

سيرة النبي علي 409 جلد 1 کی نسبت تو مجھے خوب معلوم ہے اس نے سمجھا ہوا تھا کہ ہمارے خاندان نے کسی موقع پر اس کے ساتھ ہمدردی نہیں کی تھی۔میں اُس وقت جبکہ اسے وہ واقعہ پیش آیا گھر موجود نہیں تھا کہیں گیا ہوا تھا واپس آکر میں نے اس شخص کو ہمدردی کا خط لکھا جس کا اس نے یہ جواب دیا کہ آپ نے میرے ساتھ بہت ہمدردی کی ہے لیکن فلاں فلاں نے نہیں کی ، ان کی یہ بات مجھے مرنے تک نہیں بھولے گی۔افسوس کہ یہ خط محفوظ نہ رکھا گیا ورنہ آج خوب کام دیتا۔ایک اور نے کہا کہ اگر اور کوئی خلیفہ ہوا تو اس کی تو ہم بیعت کر لیں گے لیکن میاں محمود کی بیعت تو خواہ کچھ ہی ہو نہیں کریں گے۔یہ تو کل کی باتیں ہیں بنی اسرائیل کو دیکھو اُنہوں نے آنحضرت ﷺ کو اسی لئے نہ مانا کہ یہ ہم میں سے نہیں۔تو دشمنی اور عداوت کا بہت خطرناک نتیجہ ہے اور اسی وجہ سے کئی لوگ بے دین ہو جاتے ہیں۔کل ہی ایک شخص کا خط آیا ہے۔چند دن ہوئے وہ یہاں آیا تھا، کہتا تھا کہ مجھے میرا پوتا دے دیا جائے۔میں نے کہا بچہ کا رکھنا ماں کا حق ہے اگر وہ لے جانے کی اجازت دیتی ہے تو لے جاؤ۔اب اس نے جا کر لکھا ہے کہ تم نے قرآن ہی نیا بنا لیا ہے۔اس کو ایک معمولی بات سے صدمہ پہنچا کہ کیوں خواہ بچے کی ماں روتی اور چلاتی ہی رہتی مجھے بچہ چھین کے نہیں دے دیا گیا اس وجہ سے اس نے لکھ دیا کہ تم نے قرآن ہی نیا بنا لیا ہے۔اس سے پہلے تو میں جو کچھ کہتا اور کرتا تھا اسے وہ قرآن کریم کے مطابق سمجھتا تھا لیکن اس بات کے فوراً ہی بعد جو کچھ میں کرتا یا کہتا ہوں وہ قرآن مجید کے خلاف ہو گیا ہے اور میں نے نیا قرآن بنا لیا ہے۔میری ہر بات اسے بری لگنے لگ گئی ہے۔تو دنیاوی عداوتوں کا ایمان پر بہت برا اثر پڑتا ہے اور جب ایمان نہ ہو تو انسان جنت سے محروم رہ جاتا ہے۔دیکھو یہ چھوٹی سی بات تھی مگر انجام کس قدر بڑا ہے۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ سلام کہنے کا نتیجہ آپس میں محبت ہوگی اور محبت کا