سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 410 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 410

سيرة النبي علي 410 جلد 1 نتیجہ ایمان ہوگا اور ایمان کا نتیجہ جنت میں داخل ہونا ہوگا۔اس کا اُلٹ یہ ہوا کہ سلام نہ کہنے کا نتیجہ تفرقہ ہو گا اور تفرقہ کا نتیجہ ایمان کا سلب ہونا ہو گا اور ایمان کے سلب ہونے کا نتیجہ جنت میں داخل نہ ہونا ہوگا۔تو سلام نہ کہنا معمولی بات تھی لیکن اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان جنت سے ہی محروم ہو جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اسلام نے اس بات کو معمولی کر کے نہیں چھوڑ دیا بلکہ بیان کیا ہے اور تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے اور دنیا میں کوئی کتاب ایسی نہیں جس میں اس تفصیل سے بیان کیا گیا ہو صرف اسلام کو ہی یہ شرف حاصل ہے۔اس بات پر اگر غیر مذاہب والے رشک کریں تو کیا تعجب کی بات ہے لیکن تعجب ہے ان مسلمانوں پر جو با وجود ایسی تعلیم کے پھر اس پر عمل نہیں کرتے۔اسلام نے نہایت تفصیل سے کہہ دیا ہے کہ جب کسی کے ہاں جاؤ تو جا کر آواز دو یا دروازہ کھٹکھٹا ؤ جب اندر سے اجازت مل جائے تو داخل ہو، اجازت کے بغیر نہیں۔اور یہ بھی نہیں کہ اگر کوئی جواب نہ آئے تو ”الخاموشی نیم رضا“ پر عمل کر کے اندر چلے جاؤ۔یہ کسی کا قول ہے جو بہت دفعہ غلط ثابت ہو جاتا ہے۔اسلام نے کنواری لڑکی سے نکاح کے متعلق پوچھنے پر خاموشی کو رضامندی قرار دیا ہے 4 لیکن ہر جگہ یہ بات درست نہیں ہو سکتی۔پھر بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ گھر والا پوچھتا ہے کون ہے؟ اس کی یہ وجہ ہوتی ہے کہ بعض خاص آدمی ہوتے ہیں ان کے ملنے کے لئے اگر کوئی کام کا حرج بھی کرنا پڑے تو کر دیا جاتا ہے لیکن بعض کے ساتھ ملنا ضروری نہیں ہوتا اس لئے دریافت کیا جاتا ہے تا کہ جیسا آدمی ہو ویسا اسے جواب دیا جائے۔اس طرح پوچھنے پر آگے سے یہ جواب ملتا ہے کہ میں ہوں۔ایک دفعہ کسی نے رسول کریم ﷺ کے دروازه پر دستک دی۔آپ نے فرمایا مَنُ ؟ دستک دینے والے نے کہا آنا۔یعنی میں ہوں۔آپ نے فرمایا کیا میں میں نہیں ہوں ؟ یہ کہنے سے میں تم کو کس طرح پہچان لوں؟ 5 پس اگر پوچھا جائے تو اپنا نام بتانا چاہئے تا پوچھنے والا پہچان لے کہ