سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 408
سيرة النبي علي 408 جلد 1 الله پھر سلام کے متعلق رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس کی کثرت کرنی چاہئے۔کیوں ؟ اس لئے کہ اس طرح آپس میں محبت پیدا ہو گی۔جب کوئی دوسرے کے لئے سلامتی کی دعا کرتا ہے تو ضرور ہے کہ اس کے دل میں محبت ہو اور جوں جوں وہ زیادہ دعا کرے وہ محبت بھی بڑھتی جائے گی۔آجکل تو بہت سے لوگ ایسے ہیں جو السَّلَامُ عَلَيْكُمُ کے معنی ہی نہیں سمجھتے۔ایسے لوگوں کے دلوں میں اگر ایک دوسرے کی محبت پیدا نہ ہو تو اور بات ہے لیکن جو سمجھتے ہیں ان میں ضرور محبت پیدا ہوتی اور بڑھتی جاتی ہے۔اور جب ایک انسان دوسرے کے لئے دعا کرے گا تو خود اس کے لئے بھی اور دوسرے کے لئے بھی وہ دعا بہت سے فوائد اور برکات کا موجب ہوگی۔اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق سے بہت محبت اور پیار کرتا ہے اس لئے جو کوئی اس کی مخلوق سے محبت کرتا ہے اس سے وہ بھی محبت کرتا ہے۔تو ایک دوسرے کو الله کثرت سے سلام کہنے کی وجہ رسول کریم ﷺ نے یہ فرمائی کہ تمہاری آپس میں محبت ہو گی اور آپس کے تعلقات درست ہوں گے۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تمہیں ایمان حاصل ہو گا اور جب ایمان حاصل ہوگا تو جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔اس سے ان لوگوں کو سبق لینا چاہئے جو اپنا کام یہی سمجھتے ہیں کہ دوسروں سے لڑیں اور ایک دوسرے کو لڑا ئیں۔رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کوئی شخص اُس وقت تک جنت میں نہیں جا سکتا جب تک اس میں ایمان نہ ہو اور ایمان اُس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک کہ آپس میں محبت نہ ہو اور محبت پیدا کرنے کا طریق ایک دوسرے کو کثرت سے سلام کہنا ہے۔لڑائی فساد سے ایمان کو بہت صدمہ پہنچتا ہے۔بہت سے خاندان ایسے ہیں کہ با وجود ایک مذہب کو سچا سمجھنے کے دوسروں کی دشمنی اور عداوت کی وجہ سے اسے چھوڑ دیتے ہیں۔میں نے اسی فتنہ پر غور کیا ہے جو ہماری جماعت میں پیدا ہوا ہے۔اس میں شامل ہونے والے وہی لوگ ہیں جن کو ذاتی عداوتیں اور رنجشیں تھیں۔ایک آدمی