سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 407 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 407

سيرة النبي علي 407 جلد 1 تُؤْمِنُوا وَلَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا - اَوَلَا اَدُلُّكُمْ عَلَى شَيْءٍ إِذَا فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمُ 3 کہ اسی ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم جنت میں نہیں داخل ہو سکتے جب تک مومن نہ ہو اور مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ ر آپس میں محبت نہ کرو۔اور کیا میں تمہیں آپس میں محبت کرنے کی ترکیب بتاؤں؟ وہ یہ کہ آپس میں سلام خوب پھیلا و یعنی کثرت سے ایک دوسرے کو سلام کہو۔اجازت مانگنے کے متعلق فرمایا کہ تین دفعہ مانگو۔یہ بات بھی اپنے اندر بہت بڑی حکمت رکھتی ہے۔بعض ایسے لوگ ہوتے ہیں کہ کسی کے دروازہ پر جا کر ایک بار کھٹکھٹائیں گے یا آواز دیں گے اگر کوئی آواز نہ آئے تو پھر ایسا ہی کریں گے حتی کہ صلى الله گھنٹہ گھنٹہ اسی طرح کرتے رہیں گے۔رسول کریم ﷺ نے اس طرح کرنے سے منع فرمایا ہے اور یہ حکم دیا ہے کہ تین دفعہ آواز یا دستک دو پھر اگر جواب نہ ملے تو واپس آجاؤ کیونکہ اندر سے اگر کوئی جواب نہیں دیتا تو اس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ممکن ہے وہ گھر ہی نہ ہو یا اگر گھر میں ہو تو سویا ہوا ہو۔اس صورت میں اگر کوئی بار بارآواز دیتا ہے تو اُس کی نیند خراب ہو گی اس لئے اس طرح کرنا پسندیدہ بات نہیں۔یا ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ اس آدمی سے ملنا ہی پسند نہیں کرتا یا اس سے بات کرنا نہیں چاہتا اس لئے کوئی جواب بھی نہیں دے سکتا۔یا کسی ایسی حالت میں ہوتا ہے کہ جواب نہیں دے سکتا۔ان تمام صورتوں میں بار بار آواز دینا یا کنڈی کھٹکھٹانا بہت معیوب اور ناپسندیدہ بات ہے اس لئے رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ تین دفعہ آواز پہنچا کر اجازت لینی چاہئے اگر مل جائے تو اندر چلے جاؤ اور اگر اجازت نہ ملے تو واپس لوٹ جاؤ یہ نہیں کہ جب تک اندر سے کوئی آواز نہ آئے ٹلنا ہی نہیں۔اجازت نہ ملنے کے دونوں معنی ہو سکتے ہیں۔ایک تو یہ کہ کوئی کہہ دے کہ آپ اندر نہ آئیں اس وقت فرصت نہیں۔دوسرے یہ کہ کوئی جواب ہی نہ آئے۔ان دونوں صورتوں میں واپس کوٹ جانا چاہئے۔