سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 406 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 406

سيرة النبي علي 406 جلد 1 سلام کو رواج دینے کے بارہ میں رسول کریم اللہ کی تاکید حضرت مصلح موعود 20 اکتوبر 1916ء کو خطبہ جمعہ دیتے ہوئے فرماتے ہیں:۔” میں نے اس وقت جو آیتیں پڑھی ہیں ان میں خدا تعالیٰ نے دو ایسے حکم دیئے ہیں جو اگر چہ شریعت کے قوانین نہیں ہیں تمدن سے تعلق رکھتے ہیں مگر ان پر بہت زور دیا گیا ہے کیونکہ ان کا اثر دین پر پڑتا ہے وہ حکم یہ ہیں :۔اول یہ کہ جب کسی مکان میں داخل ہونے لگو تو داخل ہونے سے پہلے مکان میں رہنے والے سے اجازت حاصل کر لو۔اگر وہ اجازت دے دیں تو داخل ہو جاؤ۔دوم یہ کہ جب مکان میں داخل ہو جاؤ تو انہیں سلام کرو۔پہلے حکم کے متعلق یہ اور فرمایا کہ اگر اندر آنے کی اجازت نہ ملے تو پھر داخل مت ہو۔رسول کریم ﷺ نے اسی کی اور تشریح فرما دی ہے۔قرآن کریم نے کہا ہے کہ پہلے اذن مانگو اور پھر اگر اجازت پاؤ تو مکان میں داخل ہو اور اگر اجازت نہ ہو تو نہ داخل ہو۔اس اذن مانگنے کی رسول کریم ﷺ نے یہ تشریح فرمائی ہے کہ یہ اذن تین دفعہ مانگو۔تین دفعہ کے بعد اگر اجازت نہ ملے تو واپس لوٹ آؤ 1۔یہ نہیں کہ بار بار آوازیں دیتے یا کنڈی کھٹکھٹاتے رہو۔اگر کسی کو داخل ہونے کی اجازت مل جائے تو اس کے لئے قرآن کریم نے یہ دوسرا حکم دیا ہے کہ تُسَلِّمُوا عَلَى أَهْلِهَا 2۔اس کے متعلق رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے وَالَّذِی نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تَدْ خُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى