سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 404
سيرة النبي علي 404 جلد 1 صلى الله رسول کریم ﷺ اور عہد کی پابندی حضرت مصلح موعود 29 ستمبر 1916 ء کو خطبہ جمعہ دیتے ہوئے فرماتے ہیں:۔غرض اس آیت کو اگر نہ بھی لیا جائے تو بھی کفار سے امانتوں اور عہدوں کی پابندی کرنے کا حکم موجود ہے۔پھر آنحضرت ﷺ کا حکم موجود ہے آپ فرماتے ہیں کہ کافر سے بھی بد عہدی کرنے کا حکم نہیں ہے۔صلح حدیبیہ میں کفار سے ایک یہ بھی شرط ہوئی تھی کہ اگر تمہارا آدمی ہم میں آملے تو ہم اسے تمہیں واپس کو ٹا دیں گے اور اگر ہمارا آدمی تم میں جا ملے تو تم اسے اپنے پاس رکھ سکو گے۔عہد میں یہ شرط لکھی جا چکی تھی اور ابھی دستخط نہیں ہوئے تھے کہ ایک شخص ابو جندل نام جسے لوہے کی زنجیروں سے جکڑ کر رکھا جاتا اور جو بہت کچھ دکھ اٹھا چکا تھا رسول کریم ﷺ کے پاس آیا اور آ کر اپنی حالت زار بیان کی اور عرض کیا يَا رَسُولَ اللهِ ! آپ مجھے اپنے ساتھ لے چلیں۔یہ لوگ میرے مسلمان ہونے کی وجہ سے مجھے سخت تکلیف دیتے ہیں۔صحابہ نے بھی کہايَا رَسُولَ اللهِ! اسے ساتھ لے چلنا چاہئے یہ کفار کے ہاتھوں بہت دکھ اٹھا چکا ہے۔لیکن اس کے باپ نے آ کر کہا کہ اگر آپ اسے اپنے ساتھ لے جائیں گے تو یہ غداری ہوگی۔صحابہ نے کہا کہ ابھی عہد نامہ پر دستخط نہیں ہوئے۔اس نے کہا لکھا تو جا چکا ہے دستخط نہیں ہوئے تو کیا ہوا۔اس پر رسول کریم ﷺ نے فرمایا اسے واپس کر دو ہم عہد نامہ کی رو سے اسے اپنے پاس نہیں رکھ سکتے۔صحابہ اس بات پر بہت تلملائے لیکن آپ نے اسے واپس ہی کر دیا اور وہ اُسے لے گئے۔لیکن جب آنحضرت ﷺ مدینہ آئے تو پھر وہ چھٹ کر آپ کے الله