سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 403
سيرة النبي علي 403 جلد 1 سے اُس پتھر پر ضرب لگائی۔اس سے ایک شعلہ نکلا۔آپ نے کہا۔اللَّهُ أَكْبَرُ صحابہ نے بھی یہی کہا۔دوسری بار پھر ضرب لگائی پھر شعلہ نکلا۔آپ نے کہا اللهُ أَكْبَرُ۔صحابہ نے بھی یہی کہا۔تیسری بار پھر اسی طرح ہوا۔آپ نے کہا اللهُ اكْبَرُ۔صحابہ نے بھی یہی کہا۔تیسری دفعہ پتھر ٹوٹ گیا۔صحابہ نے عرض کیا۔یا رسول اللہ ! آپ نے اللهُ اكبر کیوں کہی تھی؟ آپ نے فرمایا تینوں بار ضرب لگانے پر شعلہ نکلتا رہا ہے اور ہر شعلہ میں مجھے ایک نظارہ دکھایا گیا ہے۔پہلی دفعہ جو چمک ظاہر ہوئی اس میں خدا تعالیٰ نے مجھے یمن کا ملک دیا۔اور دوسری بار ملک شام اور مغرب کو اور تیسری بار مشرق کو مجھے عطاء کیا 3۔جب آپ نے یہ کشف سنایا تو منافقوں نے کہہ دیا کہ پاخانہ پھر نے کیلئے تو جگہ نہیں ملتی اور ملکوں کے فتح کرنے کی خوا ہیں آتی ہیں 4 تو ایسی نازک حالت ہو گئی تھی کہ منافقوں کو بھی ہنسی اور محول کرنے کی جرات پیدا ہو گئی تھی۔ایسی حالت میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ بچے اور پکے مسلمانوں نے کیا نظارہ دکھایا کہ وَلَمَّارَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْأَحْزَابَ قَالُوا هَذَا مَا وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَصَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ وَمَا زَادَهُمْ إِلَّا إِيْمَانًا وَتَسْلِيمًا 5 کفار کا وہ بڑا فى عظیم الشان لشکر کہ جو تمام عرب کے چنے ہوئے انسانوں پر مشتمل تھا اس کی خبر اُن الله کو معلوم ہوئی۔آنحضرت ﷺ کو خندق کھودنی اور کھدوانی پڑی اور مسلمانوں کی اُن کے مقابلہ میں بہت قلیل تعداد تھی تو اُس وقت صحابہ نے کہا کہ یہ لشکر تو وہی ہے جس کے متعلق خدا اور اُس کے رسول نے پہلے سے ہی وعدہ دیا ہوا ہے کہ ایک بڑا بھاری لشکر آئے گا اور ذلیل و خوار ہو کر واپس چلا جائے گا۔‘ (الفضل 9 ستمبر 1916ء) 2،1: السيرة الحلبية جلد 3 صفحہ 8 مطبوعہ بیروت 2012 ء الطبعة الاولى 3: السيرة الحلبية جلد 3 صفحه 11 مطبوعه بيروت 2012 ء الطبعة الاولى :4 السيرة الحلبية جلد 3 صفحه 12 مطبوعہ بیروت 2012 ء الطبعة الاولى 5: الاحزاب: 23