سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 405 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 405

سيرة النبي علي 405 جلد 1 پاس چلا آیا۔اس کے پیچھے ہی دو آدمی اس کے لینے کے لئے آگئے۔انہوں نے آکر رسول کریم ﷺ کو کہا کہ آپ نے عہد کیا ہوا ہے کہ ہمارے آدمی کو آپ واپس کر دیں گے۔آپ نے کہا کہ ہاں عہد ہے اسے لے جاؤ۔اس نے کہايَا رَسُولَ اللَّهِ ! یہ لوگ مجھے بہت دکھ دیتے اور تنگ کرتے ہیں آپ مجھے ان کے ساتھ نہ بھیجئے۔آپ نے فرمایا خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ میں غداری نہ کروں اس لئے تم ان کے ساتھ چلے جاؤ۔وہ چلا گیا اور راستے میں جا کر ایک کو قتل کر کے پھر بھاگ آیا اور آ کر کہا کہ يَا رَسُولَ اللَّهِ! آپ کا ان سے جو عہد تھا وہ تو آپ نے پورا کر دیا لیکن میرا تو ان سے عہد نہ تھا کہ میں ان کے ساتھ جاؤں گا اس لئے میں پھر آ گیا ہوں۔دوسرا شخص پھر اس کے لینے کے الله لئے آگیا۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہم تمہیں اپنے پاس نہیں رکھ سکتے۔آپ نے پھر اسے بھیج دیا لیکن وہ اکیلا آدمی اسے نہ لے جا سکا اس لئے وہ رہ گیا مگر رسول کریم ہے نے بار بار یہی کہا کہ میں جو عہد کر چکا ہوں اس کے خلاف نہیں کروں گا 1۔تو آپ نے با وجود کافروں سے عہد کرنے کے اور ایک مسلمان کے سخت مصیبت میں مبتلا ہونے کے اسے پورا کیا۔“ ( الفضل 10 اکتوبر 1916ء) 1: بخاری کتاب الشروط باب الشروط فى الجهاد صفحه 447 تا 450 حدیث نمبر 2732 مطبوعہ ریاض 1999 ء الطبعة الثانية