سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 380 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 380

سيرة النبي علي 380 جلد 1 رسول کریم ﷺ کے استغفار کی حقیقت انوار خلافت (فرمودہ دسمبر 1915 ء) میں حضرت مصلح موعود نے سورۃ النصر کی تفسیر کرتے ہوئے حضرت رسول کریم ﷺ کے استغفار کی حقیقت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا:۔وہ دوسرا حصہ جس کو میں اس وقت بیان کرنا چاہتا ہوں اس کے متعلق میں نے ایک مختصر سی سورۃ پڑھی ہے جو گو عبارت کے لحاظ سے بہت مختصر ہے لیکن مضامین کے لحاظ سے بہت وسیع باتیں اپنے اندر رکھتی ہے اور حکمت اور معرفت کے بڑے بڑے دریا اس کے اندر بہہ رہے ہیں۔نیز اس سورۃ میں خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو وہ بات بتائی ہے کہ اگر وہ اس پر غور و فکر اور عمل درآمد کرتے تو ان پر وہ ہلاکت اور تباہی کبھی نہ آتی جو آج آئی ہوئی ہے۔اور نہ مسلمان پراگندہ ہوتے ، نہ ان کی حکومتیں جاتیں، نہ اس قدر کشت و خون کی نوبت پہنچتی اور نہ ان میں تفرقہ پڑتا۔اور اگر پڑتا تو اتنا جلدی اور اس عمدگی سے زائل ہو جاتا کہ اس کا نام ونشان بھی باقی نہ رہتا۔لیکن افسوس کہ ان میں وہ تفرقہ پڑا جو باوجود گھٹانے کے بڑھا اور باوجود دبانے کے اٹھا اور باوجود مٹانے کے ابھرا اور آخر اس حد تک پہنچ گیا کہ آج مسلمانوں میں سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں فرقے موجود ہیں کیونکہ وہ بند جس نے مسلمانوں کو باندھا ہوا تھا کاٹا گیا اور اس کے جوڑنے والا کوئی پیدا نہ ہوا بلکہ دن بدن وہ زیادہ سے زیادہ ہی ٹوٹتا گیا حتی کہ تیرہ سو سال کے دراز عرصہ میں جب بالکل ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا تو خدا تعالیٰ نے اپنے پاس سے ایک شخص کو اس لئے بھیجا کہ وہ آکر اس کو جوڑے۔اس فرستادہ خدا سے پہلے کے