سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 381
سيرة النبي علي 381 جلد 1 تمام مولویوں، گدی نشینوں ، بزرگوں اور اولیاؤں نے بڑی بڑی کوششیں کیں مگر اکارت گئیں اور اسلام ایک نقطہ پر نہ آیا، پر نہ آیا۔اور کس طرح آ سکتا تھا جبکہ اس طریق سے نہ لایا جاتا جو خدا تعالیٰ نے مقرر کیا تھا یعنی کسی مامور من اللہ کے ذریعے سے۔غرض اس سورۃ میں خدا تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کو ایک آنے والے فتنہ پر آگاہ فرمایا ہے اور اس سے بچنے کا علاج بھی بتایا ہے۔اس سورۃ میں آنحضرت ﷺ کو تاکید کی گئی ہے کہ آپ استغفار کریں۔چونکہ استغفار کے معنی عام طور پر اپنے گناہوں کی معافی مانگنے کے ہوتے ہیں اس لئے یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ شخص جو دنیا کی ہدایت اور راہنمائی کے لئے آیا تھا، گمراہ اور بے دین لوگوں کو باخدا بنانے آیا تھا، گناہوں اور بدیوں میں گرفتار شدہ انسانوں کو پاک وصاف کرنے آیا تھا اور جس کا درجہ قرآن شریف میں خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ 1 سب لوگوں کو کہہ دے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے کو ہو تو میری اتباع کرو اس کا یہ نتیجہ ہوگا کہ تم خدا تعالیٰ کے محبوب اور پیارے بن جاؤ گے۔پھر وہ جس کی نسبت خدا تعالیٰ فرماتا ہے لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ 2 کہ اس رسول میں تمہارے لئے پورا پورا نمونہ ہے۔اگر تم خدا کے حضور مقبول بننا چاہتے ہو، اگر تم خدا سے تعلق پیدا کرنا پسند کرتے ہو تو اس کا آسان طریق یہ ہے کہ اس رسول کے اقوال، افعال اور حرکات وسکنات کی پیروی کرو۔کیا اس قسم کا انسان تھا کہ وہ بھی گناہ کرتا تھا اور اسے بھی استغفار کرنے کی ضرورت تھی ؟ جس رسول کی یہ شان ہو کہ اس کا ہر ایک قول اور فعل خدا کو پسندیدہ ہوکس طرح ہو سکتا ہے کہ اس کی نسبت یہ کہا جائے کہ تو اپنے گناہوں کی معافی مانگ ! اگر وہ بھی گناہ گار ہو سکتا ہے تو خدا تعالیٰ نے اس کی اتباع کی دوسروں کو کیوں ہدایت فرمائی ہے۔ہم اس بات کو ثابت کر سکتے ہیں کہ آپ ہر ایک قسم کی بدی اور گناہ سے پاک