سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 379
سيرة النبي علي 379 جلد 1 ابو طالب کو آخری وقت تبلیغ انوارِ خلافت (فرمودہ دسمبر 1915ء) میں حضرت مصلح موعود نے رسول کریم کی ابوطالب کو تبلیغ پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا:۔حدیث میں آیا ہے کہ جب ابوطالب جو آنحضرت علی کے چا تھے فوت ہونے لگے ( بعض نے تو ان کو مسلمان لکھا ہے لیکن اصل بات یہی ہے کہ وہ مسلمان نہ تھے ) تو آنحضرت ﷺ نے کہا کہ چچا! ایک دفعہ لَا إِلهَ إِلَّا اللہ کہہ دوتا کہ میں آپ کی شفاعت خدا تعالیٰ کے حضور کر سکوں۔لیکن انہوں نے کہا کہ کیا کروں جو کچھ تم کہتے ہو اس کو دل تو مانتا ہے مگر زبان پر اس لئے نہیں لا سکتا کہ لوگ کہیں گے مرنے کے وقت ڈر گیا ہے۔اسی حالت میں وہ فوت ہو گئے 1۔حضرت علیؓ کے چونکہ والد تھے اس لئے وہ چاہتے تھے کہ آنحضرت ﷺ سے ان کے متعلق کچھ فیض حاصل کریں۔مگر ساتھ ہی ڈرتے تھے کہ یہ چونکہ مسلمان نہیں ہوئے اس لئے رسول کریم یہ ناراض نہ ہو جائیں۔اس لئے انہوں نے اپنے والد کے مرنے کی خبر رسول کریم ﷺ کو ان الفاظ میں پہنچائی کہ یا رسول اللہ ! آپ کا گمراہ بڑھا چا مرگیا ہے۔آپ نے فرمایا جاؤ اور جا کر ان کو غسل دو لیکن آپ نے ان کا جنازہ نہ پڑھا۔“ (انوار خلافت صفحہ 92،91) :1 سیرت ابن ہشام جلد 1 صفحہ 472 مطبوعہ دمشق 2005 الطبعة الاولى