سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 334 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 334

سيرة النبي علي 334 جلد 1 بڑے ہی ہوا کرتے ہیں اور بڑے بادشاہوں کے وزیرشان بلند ہی رکھتے ہیں جیسا کہ خود حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں ”ہمارا نبی ہے اس درجہ کا نبی ہے کہ اس کی امت کا ایک فرد نبی ہو سکتا ہے اور عیسی کہلا سکتا ہے حالانکہ وہ امتی ہے 1 اسی طرح فرماتے ہیں کہ مثیل موسیٰ موسیٰ سے بڑھ کر اور مثیل عیسی عیسی سے بڑھ کر۔ان دونوں حوالوں سے ثابت ہے کہ امت محمدیہ میں سے نبی ہونا آنحضرت مے کی عظمت کو ظاہر کرتا ہے۔اور یہ کہ چونکہ آنحضرت ﷺ موسی سے بڑے تھے آپ کا مسیح پہلے میچ سے اپنی تمام شان میں بڑا ہونا چاہیے تھا۔مذکورہ بالا الہام بھی میرے اس خیال کی تائید کرتا ہے اور ایک نہایت ہی لطیف پیرا یہ میں اس میں یہ سب مضمون بیان کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ كُلُّ بَرَكَةٍ مِّنْ مُّحَمَّدٍ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَبَارَكَ مَنْ عَلَّمَ وَتَعَلَّمَ پہلے حصہ میں تو آنحضرت ﷺ کے کمالات کا بیان فرمایا ہے کہ کوئی ایسی برکت جو دنیا میں پائی جاتی ہو صلى الله اور انسان کو حاصل ہو سکتی ہو ایسی نہیں جو آنحضرت ﷺ سے نہ مل سکتی ہو۔كُلُّ بَرَكَةٍ کے معنی عربی زبان میں یہی ہیں کہ جس قدر برکات ہیں ان میں سے ہر ایک برکت مل لتی ہے کیونکہ جب لفظ کل کا مضاف کسی نکرہ مفرد کی طرف ہو تو اس سے اس کا ہر فرد مراد ہوتا ہے۔پس اس الہام کے یہی معنی ہیں کہ جس جس چیز کو برکت اور فضل کہہ سکتے ہیں وہ آنحضرت علیہ کے فیضان سے مل سکتی ہے خواہ دنیا وی ہو خواہ دینی ، خواہ روحانی ہو خواہ جسمانی۔اللہ تعالیٰ نے کسی برکت کی قید نہیں لگائی اور کسی برکت کا استثناء نہیں کیا۔پس وہ گل برکات جو انسان پاسکتا ہے انسان کو رسول اللہ ﷺ سے مل سکتی ہیں اور نبوت سے بڑھ کر برکت اور کیا ہوگی۔پس کس طرح ہوسکتا ہے کہ نبوت آنحضرت ﷺ کی اتباع سے نہ ملے حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ كُلُّ بَرَكَةِ مِّنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّم ہر ایک برکت آپ سے ہے اور آپ کے فیضان سے جاری ہے اور آپ کے ذریعہ سے مل سکتی ہے۔پس اس الہام میں اشارہ ہے اس