سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 333
سيرة النبي علي 333 جلد 1 صلى الله رسول کریم ﷺ کی قوت قدسیہ مولوی محمد علی صاحب نے ایک رسالہ ” القول الفصل کی ایک غلطی کا اظہار“ لکھا۔اس کے جواب میں حضرت مصلح موعود نے حقیقۃ النبوۃ“ کتاب تصنیف فرمائی جو 3 مارچ 1915 ء کو شائع ہوئی۔اس کتاب میں آپ رسول کریم ﷺ کی قوت قدسیہ وو کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:۔میں نے القول الفصل میں لکھا تھا کہ آنحضرت ﷺ سے پہلے کوئی امتی نبی نہیں آسکتا تھا اس لئے کہ آپ سے پہلے جس قدر انبیاء گزرے ہیں ان میں وہ قوت قدسیہ نہ تھی جس سے وہ کسی شخص کو نبوت کے درجہ تک پہنچا سکتے اور صرف ہمارے آنحضرت مے ہی ایک ایسے انسان کامل گزرے ہیں جو نہ صرف کامل تھے بلکہ مکمل تھے یعنی دوسروں کو کامل بنا سکتے تھے۔اور چونکہ اب کوئی ضرورت نہ تھی کہ افاضہ نبوت براہ راست ہوتا اس لئے آئندہ کے لئے صرف امتی نبی آسکتا ہے۔پس امتی نبی کے یہ معنی نہیں کہ وہ پہلے سب انبیاء سے گھٹیا ہو بلکہ ہوسکتا ہے کہ وہ پہلے بہت سے انبیاء سے یا آنحضرت ﷺ کے سوا باقی سب انبیاء سے افضل ہو کیونکہ آنحضرت ﷺ کی تربیت کے ماتحت جو شخص پہلے اور آپ کے کمالات کو حاصل کرے وہ جس قدر بلند درجہ بھی حاصل کرے قابل تعجب نہیں کیونکہ آنحضرت سے اس شان کو پہنچے ہیں کہ آپ کی شان نبیوں کی نظروں سے بھی پوشیدہ ہے اور آپ کے درجہ کو سمجھنا ہر ایک انسان کا کام نہیں۔پس آپ کی تربیت کے ماتحت روحانیت میں ترقی حاصل کرنے والا جس درجہ کو بھی پالے قابل تعجب نہیں۔کیونکہ بڑے استادوں کے شاگرد