سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 331
سيرة النبي علي 331 جلد 1 رسول کریم ﷺ کی اتباع سے قرب الہی کا حصول حضرت مصلح موعود نے القول الفصل میں پیغامیوں کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے اس بات کا ذکر فرمایا کہ رسول کریم کی کامل اتباع کے نتیجہ میں آپ کا کوئی غلام پہلے نبیوں سے بھی بڑھ سکتا ہے اور اس سے رسول کریم علی کی ارفع شان کا اظہار ہوتا ہے۔اس کی وضاحت میں فرمایا :۔الله آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے وہ رتبہ دیا ہے کہ آپ کی غلامی اور اتباع سے بارگاہ الہی میں مقرب ہونے والا انسان اگر یہ دعویٰ بھی کرے کہ میں آپ کی اتباع سے اس درجہ تک پہنچ گیا ہوں کہ پہلے سب نبیوں سے افضل ہو گیا ہوں تب بھی جائے تعجب نہیں۔پھر بھی جائے تعجب نہیں اس بات میں کہ ایک شخص آپ کی اتباع سے نبی ہو گیا اور باوجود نبی ہونے کہ آپ کی غلامی سے آزاد نہ ہوا بلکہ جس قدر اس کا درجہ بڑھا اسی قدر آنحضرت ﷺ کی محبت میں فنا ہوتا گیا۔بعید از امکان ہونے کی کیا وجہ سہی ، کاش ! لوگ سمجھتے کہ مسیح موعود کی نبوت کے انکار سے تو رسول اللہ ﷺ کا انکار لازم آتا ہے کیونکہ آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ لو كَانَ مُوسَىٰ وَ عِيْسَىٰ حَيَّيْنِ لَمَا وَسِعَهُمَا إِلَّا اتَّبَاعِی ا یعنی اگر مولی اور عیسی زندہ ہوتے تو سوائے میری فرمانبرداری کے ان سے کچھ نہ بنتا۔پس اگر آپ کی امت میں سے ایک ایسا شخص نہ ہوتا جس کو خدا تعالٰى جَرِيُّ اللهِ فِى حُلَلِ الأَنْبِيَاءِ 2 فرما تا یعنی اللہ کا نبی انبیاء کے خلوں میں۔تو آنحضرت ﷺ کا دعوی ( نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَالِکَ) ایک دعوی بلا دلیل الله بن جاتا اور کوئی کہہ سکتا تھا کہ نَعُوذ باللهِ مِنْ ذَالِکَ) رسول اللہ ﷺ نے ایک