سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 332
سيرة النبي علي 332 جلد 1 بلا دلیل بات صرف فخر کے طور پر کہہ دی ہے لیکن اللہ تعالیٰ رسول کریم ہے کے لئے بڑا غیرت مند ہے۔ایک شخص کو بہت سے نبیوں کے نام سے مخاطب کیا اور باقی نبیوں کے نام لینے کی بجائے فرما دیا جَرِيُّ اللهِ فِى حُلَلِ الْأَنْبِيَاءِ۔اور پھر اسے اس کام پر کھڑا کیا کہ آنحضرت ﷺ کی عظمت کو ظاہر کرے اور آپ کی غلامی کا اقرار کرے۔اور چونکہ اس شخص کو سب نبیوں کے نام سے یاد کیا تھا اس لئے اقرار غلامی سے ثابت ہوا کہ صلى الله اگر اصل انبیاء ہوتے تو وہ بھی آنحضرت ﷺ کے سامنے اقرار غلامی کرتے اور اس طرح آپ کا یہ قول کہ لَوْ كَانَ مُوسى وَ عِیسَی حَيَّيْنِ لَمَا وَسِعَهُمَا إِلَّا اتَّبَاعِي عملی رنگ میں پورا ہوا۔پس مسیح موعود کی نبوت سے انکار کرنے والا درحقیقت آنحضرت علی کی بات کو باطل اور بے معنی قرار دینے والا ہے نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَالِکَ۔خوب یاد رکھو کہ مسیح موعود کے نبی اور پھر عظیم الشان نبی ہونے میں ہی آنحضرت ﷺ کے قول کی صداقت ہے۔پس ہم اس محبوب خدا کی تکذیب کس طرح کر سکتے ہیں۔مرزا محمود احمد۔“ (القول الفصل صفحہ 79،78 مطبوعہ ضیاء الاسلام پریس قادیان 1915ء) 1 اليواقيت والجواهر جلد 2 صفحہ 22 مطبوعہ مصر 1351ھ 2 تذکرہ صفحہ 63 ایڈیشن 2004 ء