سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 329 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 329

سيرة النبي علي 329 جلد 1 وہ اس سے ادنی ہے جس نے پرائیویٹ طور پر امتحان پاس کیا؟ نہیں ایسا ہرگز نہیں۔پس کیونکر ممکن ہے کہ وہ نبوت جو آنحضرت ﷺ کی شاگردی میں ملے وہ اس نبوت سے ادنیٰ ہو جو پرائیویٹ اپیر (Appear) ہونے والے طلباء کومل چکی ہو۔ممکن ہے کہ ایک پرائیویٹ امتحان دینے والا کالج میں امتحان دینے والے سے لائق ہو اور ممکن ہے کہ ایک کالج کا سٹوڈنٹ پرائیویٹ طور پر تیاری کرنے والے سے لیاقت میں اعلیٰ ہو۔یہی حال یہاں ہے۔مسیح موعود بعض پہلے نبیوں سے اپنی تمام شان میں بڑھ کر ہے اور بعض سے کم۔اور میں نے خود اپنے کانوں سے حضرت مسیح موعود سے سنا ہے کہ میں وہی ہوں جس کی نسبت ایک بزرگ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ابوبکر سے بڑھ کر ہوگا ؟ تو اس نے جواب دیا کہ وہ تو کئی پہلے نبیوں سے بھی شان میں بڑا صلى الله ہوگا۔پس اس کے ظلی نبی ہونے کے صرف یہی معنی ہیں کہ آنحضرت ﷺ دنیا کے تمام انسانوں سے خواہ وہ غیر نبی ہوں یا نبی بڑھ کر ہیں۔اور اسی مضمون کی طرف حضرت مسیح موعود کا مندرجہ ذیل الہامی شعر اشارہ کرتا ہے۔P برتر گمان و وہم سے احمد کی شان ہے جس کا غلام دیکھو مسیح الزمان ہے 1 الله اس الہامی شعر میں بتایا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی عظمت شان کا ثبوت یہ ہے کہ مسیح الزمان اس کا غلام ہے۔اب تم جس قدر بھی مسیح موعود کی عزت کرو گے اتنی ہی آنحضرت ﷺ کی عزت ہوگی کیونکہ جس کا غلام بڑا ہو آ قا ضرور اس سے بڑا ہوگا۔اور جتنی شان مسیح موعود کی کم کرو گے اتنی ہی گویا نبی کریم ﷺ کی شان کم کرو گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں آنحضرت ﷺ کی شان کے سمجھنے کے لئے مسیح موعود کی شان کے مطالعہ کی طرف توجہ دلائی ہے۔پس مسیح موعود کی شان کے بڑھنے سے آنحضرت علی کی شان بڑھتی ہے اور ہم پر خدا تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے ہمیں اس بات کے سمجھنے کی توفیق دی ہے کہ مسیح موعود ویسا ہی مکرم نبی ہے جیسے کہ پہلے نبی تھے اور یہ سب