سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 295
سيرة النبي علي 295 جلد 1 عطا فرمائی تھی کہ آپ کی زبان پر کبھی گالی نہیں آئی حالانکہ جو مخالفت آپ کی ہوئی اور جو تکلیف آپ کے دشمنوں نے آپ کو دی وہ اس حد کی تھی کہ اس کے مقابلہ میں کسی انسان کی تکلیف نہیں پیش کی جا سکتی۔لیکن باوجود اس کے کہ آپ کے مخالفوں نے ہر طرح سے آپ کو دق کیا اور 23 سال متواتر بلا وجہ آپ کو دکھ دیتے رہے اور ان کے ہاتھ روکنے والا بھی کوئی نہ تھا اور حضرت مسیح کے زمانہ کی طرح کوئی حکومت نہ تھی جس کے قانون سے ڈر کر اہل مکہ رسول کریم ﷺ کو ستانے میں کوئی کمی کرتے اور وہ قوم بھی حضرت مسیح کی قوم سے زیادہ سخت تھی لیکن باوجود اس کے ہم دیکھتے ہیں کہ صلى الله آنحضرت مے کے منہ پر کبھی گالی نہیں آئی۔ایک دو دن کی تکلیف ہو تو تب بھی کوئی بات تھی۔سب کہہ سکتے تھے کہ آپ نے جبر کر کے اپنے آپ کو روکے رکھا۔ایک دو ماہ کی بات ہوتی تب بھی کہہ سکتے تھے کہ تکلیف اٹھا کر خاموش رہے۔ایک دو سال کا معاملہ ہو تب بھی خیال ہوسکتا تھا کہ اپنے نفس کو مار کر اپنی زبان کو بند رکھا لیکن 23 سال کا لمبا عرصہ جو تکالیف و مصائب سے پُر تھا ایک ایسا عرصہ ہے کہ اس عرصہ میں کسی انسان کا ان تکالیف کو برداشت کرتے ہوئے اور ان عداوتوں کو دیکھتے ہوئے جو آنحضرت ﷺ کو دیکھنی اور برداشت کرنی پڑیں ہر قسم کی سخت کلامی سے پر ہیز کرنا اور کبھی مخش گوئی کی طرف مائل نہ ہونا دلالت کرتا ہے کہ وہ انسان کوئی عجیب انسان تھا اور نہ صرف عام انسانوں سے برتر تھا بلکہ دوسرے نبیوں پر بھی فضیلت رکھتا تھا۔کیونکہ جہاں اس نے اپنے آپ پر قابو رکھا وہاں دوسرے نبی بھی نہ رکھ سکے۔مجھے اپنے اس بیان کے لیے کسی ایک واقعہ سے استدلال کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس معاملہ میں ایک ایسے شخص کی شہادت موجود ہے جو دس سال متواتر آپ کے ساتھ رہا اور یہ حضرت انس ہیں۔وہ فرماتے ہیں کہ لَمْ يَكُنْ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاحِشًا وَلَا لَعَانًا سَبَّابًا كَانَ يَقُوْلُ عِنْدَ الْمَعْتَبَةِ مَا لَهُ تَرِبَ جَبِينُهُ 112 یعنی رسول كريم علي وَلَا