سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 294
سيرة النبي علي 294 جلد 1 ہے۔اسی طرح اور بہت سی گالیاں ہیں کہ جو انسان اپنے مخالف کو دیتا ہے لیکن ان کے اندر جو مضمون ادا کیا جاتا ہے وہ اس مخالف پر چسپاں نہیں ہوتا۔پس گالیاں دینا در حقیقت ایک کمزوری ہے اور سخت طیش کے وقت انسان سے اس کا ظہور ہوتا ہے اور اس کا کوئی فائدہ بھی نہیں ہوتا۔صرف گالی دینے والے کے ان خیالات کا اس سے پتہ چلتا ہے جو وہ اس کے متعلق رکھتا ہے جسے گالی دیتا ہے۔غرض گالی دینے سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا ہاں ایک پُر غضب طبیعت کے جوش کا اظہار اس سے ہو جاتا ہے مگر پھر بھی اکثر لوگ غضب میں گالیاں دیتے ہیں۔چنانچہ بعض لوگ جو عام طور پر نرم طبیعت رکھتے ہیں جب ان کو بھی غصہ آ جائے تو اپنے مخالف کے حق میں گالی دے دیتے ہیں اور جب کسی شخص سے سخت تکلیف پہنچے تب تو بڑے بڑے صابروں کے منہ سے بھی گالی نکل جاتی ہے۔چنانچہ مسیح نامرئی جیسا صابر انسان جس کی زندگی اس کے صبر اور اس کی استقامت پر دلالت کرتی ہے اور جس نے اپنے دشمنوں سے بڑی بڑی سخت مصیبتیں برداشت کر کے بھی ان کے حق میں کوئی سخت کلمہ نہیں کہا اسے بھی ہم دیکھتے ہیں کہ ایک موقع پر جب اس کے دشمنوں کی شرارت حد کو پہنچ گئی اور حملہ پر حملہ انہوں نے اس پر کیا تو آخر تنگ آکر ایک دن اسے بھی اپنے دشمنوں کے حق میں کہنا پڑا کہ سانیوں کے بچے مجھ سے معجزہ طلب کرتے ہیں 110 اور کون نہیں جانتا کہ وہ لوگ جو حضرت مسیح کے مخالف تھے وہ انسانوں کے بچے تھے لیکن ان کی شرارتوں نے حضرت مسیح کو اس قدر دق کیا کہ آخر تنگ آکر ان الفاظ میں انہیں اپنے غصہ کا اظہار کرنا پڑا۔اسی طرح ایک دفعہ اپنے حواریوں سے جو ایک دفعہ ان کو سخت تکلیف پہنچی تو اپنے ایک حواری کو انہوں نے شیطان کے لفظ سے یاد کیا 111 حالانکہ وہ وہی حواری تھا جسے انہوں نے خود اپنے بعد خلیفہ مقرر کیا تھا۔غرض حضرت مسیح کی مثال سے یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ کبھی بڑے سے بڑا صابر انسان بھی دشمن کی شرارت سے تنگ آ کر ایسی گالی دے بیٹھتا ہے۔لیکن ہمارے آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے وہ شان