سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 296
سيرة النبي علي 296 جلد 1 تو گالی دینے کے عادی تھے ، نہ بخش کلام کے عادی تھے، نہ لعنت کیا کرتے تھے۔جب آپ کو ہم میں سے کسی پر غصہ آتا تو آپ صرف اس قدر فر ما دیا کرتے تھے کہ اسے کیا ہوا ہے اس کے ماتھے پر مٹی لگے۔یہ گواہی ایک ایسے شخص کی گواہی ہے جو کہ آپ کے ساتھ آپ کی عمر کے آخری حصہ میں جس میں سے پہلا حصہ آپ کی تکلیف کے زمانہ میں سے سب سے سخت زمانہ تھا رہا ہے اور پھر آپ کی عمر کا وہ حصہ ہے جبکہ ایام جوانی گزر کر بڑھاپا آ گیا تھا اور بڑھاپے میں عام طور پر انسان کی طبیعت چڑ چڑی ہو جاتی ہے لیکن باوجود اس کے وہ گواہی دیتا ہے کہ اس دس سال کے تجربہ سے اسے معلوم ہوا ہے کہ آپ نہ تو کبھی کسی کو گالی دیتے ، نہ کبھی آپ کے منہ سے کوئی فحش کلمہ نکلتا اور نہ کبھی کسی شخص پر لعنت کرتے ، ہاں حد سے حد غصہ میں اس قدر کہہ دیتے کہ تیرے ماتھے کو مٹی لگے اور یہ فقرہ گالی کا فقرہ نہیں بلکہ یہ الفاظ عرب لوگ پیار سے بھی کہا کرتے ہیں اور گو عام طور پر ان کا استعمال مہمل جملوں کے طور پر ہوتا ہے لیکن کبھی یہ الفاظ محبت کے اظہار کے لیے بھی استعمال کیے جاتے اور ان سے یہ مفہوم لیا جاتا ہے کہ اس کی یہ شوخی دور ہو کیونکہ ماتھا تکبر کی علامت ہے اور اس کو مٹی لگنے سے یہ مراد ہے کہ اس کا یہ تکبر دور ہو۔“ ( الفضل 19 ، 25 جون ،2 ، 9 ، 16 ،23، 30 جولائی ،13،6 ،27،20 اگست ، 3 ، 10 ، 17 ، 24 ستمبر، 1 ،22،15،8، 29 اکتوبر، 12،5 ،19، 26 نومبر ، 3 ،10، 24،17، 31 دسمبر 1913ء، 14،7، 21 ، 28 جنوری ،4 ، 11 ، 18 ،25 فروری، 4 ، 11 مارچ ، 9 جولائی ، 29،22 اکتوبر، 12،5، 26 نومبر، 10 دسمبر 1914 ء، غیر مطبوعہ مواد ) 1: الاحزاب: 22 66 2:بخارى كتاب الاستئذان باب التسليم والاستئذان ثلاثا صفحہ 1087 حدیث نمبر 6244 مطبوعہ ریاض 1999 ء الطبعة الثانية 3 ابوداؤد کتاب العلم باب فى سرد الحديث صفحہ 524 حدیث نمبر 3654 مطبوعہ ریاض 1999 ء الطبعة الاولى