سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 16
سيرة النبي علي 16 جلد 1 سائل کو دھتکارتی نہیں۔نہ کسی ملک کے ساتھ اپنے آپ کو مخصوص کرتی ہے۔چنانچہ یہ وہ آیت ہے کہ مسلمان اس کو دن میں کم سے کم چالیس دفعہ تو پڑھ ہی چھوڑتے ہیں۔علاوہ اس کے سورۃ انعام کے رکوع 2 میں خدا تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کو فرماتا ہے کہ ان لوگوں کو کہہ دے کہ أُوحِيَ إِلَى هُذَا الْقُرْآنُ لِأَنْذِرَكُمْ بِهِ وَمَنْ بَلَغَ 2 یعنی وحی کیا گیا ہے میری طرف یہ قرآن تا کہ میں تم کو اس سے ڈراؤں اور اس کو ڈراؤں جس کو یہ پہنچے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ قرآن ہر ایک شخص کے لئے ہے اور کسی قوم یا ملک کی خصوصیت نہیں۔جس کے کان میں یہ پڑے وہی مخاطب ہے اور کوئی نہیں جو کہہ سکے کہ میں تو اس کے مخاطبین میں سے نہیں ہوں۔بلکہ جس کو یہ پہنچ جائے اسی کو آنحضرت ﷺ کے دعوی کی طرف جھکنا پڑے گا اور ستی یا شرارت پر کوئی عذر نہ سنا جاوے گا۔چنانچہ اس آیت میں ایک پیشگوئی بھی ہے اور وہ یہ کہ خدا تعالیٰ آنحضرت ﷺ کو فرماتا ہے کہ قرآن شریف کے منکرین کے لئے جو سزا ئیں بتائی گئی ہیں اور یہ جو کہا گیا ہے کہ جو شرارت کرے گا اور اس کتاب سے ٹھٹھا کرے گا وہ ہلاک ہو گا اور دنیا میں ذلیل ہو گا۔وہ صرف اہل عرب کے لئے نہیں بلکہ دنیا بھر میں جہاں جہاں یہ جائے گا وہیں اس کے مقابلہ کرنے والے ذلیل وخوار ہوں گے۔اور ان کے لئے بھی نذیر ہوگا۔چنانچہ اس لئے فرمایا کہ لِأُنْذِرَكُمْ بِهِ وَمَنْ بَلَغَ یعنی تا کہ انذاری پیشگوئی تم کو بھی اور جن کو یہ پہنچے ان کو بھی سنا دی جائے۔اور یہ قرآن شریف کا ایک عظیم الشان معجزہ ہے اور آیت ہے کہ جس کے مقابلہ میں اور کوئی کتاب نہیں ٹھہر سکتی۔چنانچہ آتھم اور لیکھرام نے اس پیشگوئی کے مطابق اپنا انجام دیکھ لیا اور اس پیشگوئی کے شاہد بنے اور دیگر لوگوں نے بھی اس کا مشاہدہ کیا۔پس علاوہ اس کے کہ اس آیت سے یہ نکلتا ہے کہ قرآن شریف سب دنیا کے لئے ہے۔یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس کو یہ پہنچے اس کے لئے یہ انذار ساتھ موجود ہے کہ اس شہنشاہی پروانہ سے اگر ٹھٹھا کرو گے تو آنحضرت عے اسی لئے آئے