سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 15 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 15

سيرة النبي علي 15 جلد 1 ساری دنیا کیلئے نجات دہندہ پادری میکلین صاحب نے 4 دسمبر 1909ء کومشن کالج لاہور میں ایک لیکچر دیا تھا کہ نجات کیا ہے۔اس کے جواب میں حضرت خلیفہ اصیح الاول کے فرمان کے مطابق حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے ایک مضمون تحریر فرمایا جو 25 دسمبر 1909ء کو تشحیذ الاذہان میں ”نجات“ کے نام سے شائع ہوا۔اس مضمون کی تمہید میں آپ نے اسلام اور بانی اسلام کو ساری دنیا کیلئے نجات دہندہ قرار دیتے ہوئے فرمایا:۔میں دیکھتا ہوں کہ تمہید بہت لمبی ہوتی جاتی ہے مگر پھر بھی ضروری ہے کہ میں قرآن شریف سے اس بات کا دعوی دکھاؤں کہ وہ سب دنیا کے لئے ہے اور یہ کہ آنحضرت ﷺ ہر زمانہ اور ہر جگہ کے لئے خاتم النبیین ہوکر مبعوث ہوئے ہیں۔اور اب تک جس کو تیرہ سو برس گزر گئے ہیں یا آئندہ ، آپ کی غلامی سے منکر شخص کی رسائی در بارالہی میں نہیں ہوسکتی۔چنانچہ اول ہی اول جو آیت ہم کو سورۃ فاتحہ میں نظر آتی ہے وہ الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ 1 ہے۔جس کے معنی ہیں کہ سب تعریف ہے اس کے لئے جو سب دنیا کا رب ہے یعنی پرورش کرنے والا ہے۔جس میں کہ ہم کو بتایا گیا ہے کہ شکر کرو اس خدا کا جس نے وہ کتاب بھیجی کہ جس نے پہلی سب کتابوں کو موقوف کر کے جو مختلف قوموں کے لئے تھیں اس کتاب کو ارسال کیا کہ جور بوبیت عالمین کی صفت کے ماتحت اب سب دنیا کی ربوبیت کرے گی۔اور خواہ کسی مقام کا رہنے والا آدمی ہوسب کے لئے اس نے اپنے دروازوں کو کھول دیا ہے۔اور کسی دکھیارے کو رد نہیں کرتی اور کسی