سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 286 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 286

سيرة النبي علي 286 جلد 1 صرف ستی کی وجہ سے انکسار کرتے ہیں۔اس حدیث سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کے سامنے جو فرشتہ آیا اس نے آپ سے کہا کہ پڑھ اور آپ نے اس کے جواب میں کہا کہ میں پڑھنا نہیں جانتا۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ کا اس انکار سے کیا مطلب تھا ؟ آیا یہ کہ آپ تحریر پڑھنا نہیں جانتے یا یہ کہ عربی زبان کا دہرانا بھی نہیں جانتے ؟ کیونکہ قراءت کا لفظ عربی زبان میں دو معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ایک معنی اس کے کسی تحریر کو پڑھنے کے ہیں اور دوسرے معنی کسی مقررہ عبارت کو اپنی زبان سے دہرانے کے ہیں۔چنانچہ جب کوئی شخص کسی کتاب کو پڑھے تو اُس کی نسبت بھی کہیں گے کہ يَقْرَءُ الْكِتَابَ اور جب وہ کسی عبارت کو دہرائے گا تو اسے بھی کہیں گے کہ يَقْرَءُ وہ پڑھتا ہے جیسا کہ قرآن کریم کو حفظ پڑھنا بھی قراءت کہلاتا ہے۔پس اب سوال یہ ہے کہ آیا رسول الله علی نے جو یہ فرمایا کہ میں پڑھنا نہیں جانتا تو اس سے کیا مراد ہے؟ آیا یہ کہ آپ تحریر نہیں پڑھ سکتے یا یہ کہ آپ کسی عبارت کو جو عربی زبان میں ہو دہرا بھی نہیں سکتے ؟ اگر یہ ثابت ہو کہ آپ کا مطلب یہ تھا کہ آپ تحریر نہیں پڑھ سکتے تب تو بات صاف ہے کیونکہ تاریخ سے ثابت ہے کہ آپ لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے لیکن یہ مطلب رسول کریم ﷺ کا نہیں ہوسکتا کیونکہ صحیح احادیث سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا کہ آپ کے سامنے اس فرشتہ نے کوئی تحریر رکھی تھی اور کہا تھا کہ اسے پڑھو، تا آپ جواب دیتے کہ میں پڑھنا نہیں جانتا بلکہ جو کچھ صحیح اور مرفوع احادیث سے ثابت ہوتا ہے وہ یہی ہے کہ ایک فرشتہ آپ کے سامنے آیا اور اس نے آ کر آپ سے کہا کہ آپ پڑھیں اور کوئی تحریر آپ کے سامنے پیش نہیں کی۔چنانچہ بخاری کی جو حدیث او پر نقل کی گئی ہے اُس سے بھی یہی ثابت ہے کہ اس فرشتہ نے آپ کے سامنے کوئی تحریر نہیں رکھی بلکہ صرف ہوشیار کرنے کے لیے کہا کہ پڑھ ! جیسا کہ جب کسی شخص سے کوئی الفاظ کہلوانے ہوں تو کہلوانے والا عام طور پر کہہ دیا کرتا ہے کہ کہو۔پس اس فرشتہ نے بھی