سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 285 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 285

سيرة النبي علي 285 جلد 1 مدد کرتا ہے۔یہ کہہ کر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آنحضرت ﷺ کو ساتھ لیا اور ورقہ بن نوفل بن اسد بن عبد العزی جو حضرت خدیجہ کے چا کے بیٹے یعنی چچا زاد بھائی تھے ان کے پاس پہنچیں جو جاہلیت کے زمانہ میں مسیحی مذہب اختیار کر چکے تھے اور عبرانی میں انجیل کے بعض حصص جن کی اللہ تعالیٰ ان کو توفیق دیتا لکھا کرتے تھے (یعنی اپنی جوانی میں ) اور اُس وقت وہ بوجہ بڑھاپے کے اندھے ہو چکے تھے۔حضرت خدیجہ نے اُن سے کہا کہ اے میرے چچا کے بیٹے ! اپنے بھائی کے بیٹے کی بات سن۔ورقہ نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ اے میرے بھائی کے بیٹے ! کیا بات ہے؟ آپ نے جو کچھ گزرا تھا آپ کے سامنے دہرایا۔اس پر ورقہ نے کہا کہ یہ وہی فرشتہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موستی پر نازل فرمایا تھا۔اے کاش! میں اُس وقت جوان ہوتا۔اے کاش ! میں اُس وقت زندہ ہوتا جب تیری قوم تجھے نکال دے گی۔اس پر رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ کیا وہ مجھے نکال دیں گے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں! کوئی شخص اس تعلیم کے ساتھ نہیں آیا جس کے ساتھ تو آیا ہے مگر لوگوں نے اس سے دشمنی کی ہے۔اور اگر مجھے تیرا زمانہ ملا ( یعنی جس وقت تیری تعلیم کا اعلان ہوگا اور لوگ مخالفت کریں گے ور نہ نبی تو آپ اسی دن سے ہو گئے تھے اور وحی قرآن نازل ہونی شروع ہو گئی تھی ) تو میں تیری بڑی مدد کروں گا۔پھر کچھ ہی دنوں کے بعد ورقہ فوت ہو گئے اور وحی ایک عرصہ کے لیے بند ہوگئی۔ممکن ہے اس حدیث کے یہاں نقل کرنے پر بعض لوگوں کو تعجب ہوا ہو کہ اس حدیث کے اس جگہ نقل کرنے سے کیا مطلب ہے اور اس سے آنحضرت ﷺ کے انکسار کا کیا پتہ چلتا ہے لیکن جیسا کہ میں اِنْشَاءَ اللهُ ابھی بتاؤں گا یہ حدیث آپ کی منکسرانہ طبیعت پر تیز روشنی ڈالتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انکسار سے آپ کا دل معمور تھا اور کسی زمانہ میں بھی آپ سے یہ خلق نیک جدا نہیں ہوا۔انکسار کے ساتھ کام کرنا دلالت کرتا ہے کہ یہ صفت کس شان کے ساتھ آپ کے اندر تھی ورنہ بعض لوگ الله