سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 287 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 287

سيرة النبي ع 287 جلد 1 یہی آپ سے کہا تھا کہ دہراؤ یعنی جو لفظ میں کہتا ہوں اُن کو دہراتے جاؤ۔چنانچہ تیسری دفعہ فرشتہ نے منہ سے ہی الفاظ کہے نہ کہ کوئی تحریر رکھی۔اگر پڑھوانا مد نظر ہوتا اور اس فرشتہ کا آپ کو گھونٹنا اس لیے ہوتا کہ آپ کو تحریر پڑھنا آجائے تو ایسا ہونا چاہیے تھا کہ وہ آخری دفعہ آپ کے سامنے تحریر رکھ دیتا اور آپ کو پہلے پڑھنا نہیں جانتے تھے لیکن معجزانہ طور پر پڑھنے لگ جاتے لیکن آخری دفعہ فرشتہ کا منہ سے الفاظ کہہ کر آپ کو دہرانے کے لیے کہنا صاف ثابت کرتا ہے کہ اُس وقت آپ کے سامنے کوئی تحریر نہ رکھی گئی تھی بلکہ صرف زبانی آپ سے ایک عبارت دہرانے کو کہا گیا تھا۔اور یہ استدلال جو ہم نے کیا ہے اس کے خلاف عبید بن عمیر کی روایت نہیں پیش کی جاسکتی جس میں لکھا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ میرے سامنے جبریل نے ایک تحریر رکھی تھی جو دیباج پر لکھی ہوئی تھی 109۔کیونکہ ایک تو یہ حدیث اس پائے کی نہیں جس پائے کی حدیث بخاری کی ہے پھر یہ مرسل حدیث ہے اس لیے اس روایت کے مقابلہ میں جو او پر نقل کی گئی ہے نہیں رکھی جا سکتی۔سوم خود عبید بن عمیر کی اپنی روایت میں اس کے خلاف ہے کیونکہ وہ بیان کرتے ہیں کہ جب جبریل نے آپ سے کہا کہ پڑھیں تو آپ نے فرمایا کہ میں کیا پڑھوں؟ اور یہ فقرہ کہ ” میں کیا پڑھوں“ صاف ثابت کرتا ہے کہ آپ کے سامنے کوئی تحریر نہ تھی۔اگر تحریر ہوتی تو آپ کیا پڑھوں کا جملہ کیونکر استعمال فرما سکتے تھے۔غرض حق یہی ہے کہ آنحضرت ﷺ سے اس فرشتہ نے کوئی تحریر پڑھنے کو نہیں کہا بلکہ یہی کہا کہ آپ کہیں (یعنی جو کچھ میں کہوں ) اس کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ میں تو قراءت نہیں جانتا۔لیکن اب ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ جبکہ آپ سے صرف عربی کے بعض فقرات دہرانے کو کہا گیا تھا تو آپ نے کیوں فرمایا کہ میں پڑھنا نہیں جانتا حالانکہ یہ کام آپ آسانی سے کر سکتے تھے۔آپ کی مادری زبان عربی تھی اور آپ اس زبان میں کلام کیا کرتے تھے پھر آپ نے یہ کیوں فرمایا کہ میں پڑھنا نہیں جانتا۔اور نہ آپ عربی