سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 271 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 271

سيرة النبي عمال 271 جلد 1 صلى الله رسول کریمہ بے نظیر بہادر تھے اور کوئی شخص بہادری میں ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔اب میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ آپ لڑائی اور جھگڑے سے سخت متنفر تھے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ نہ تو عام طور پر لڑائی اور جھگڑا دیکھتے دیکھتے آپ کے اندر بہادری کی صفت پیدا ہوگئی تھی اور نہ ایسا تھا کہ جنگوں اور لڑائیوں کے باعث طبیعت میں ایسی سختی پیدا ہو گئی تھی کہ جھگڑے اور فساد کو طبیعت پسند کرنے لگے۔اور ہم دیکھتے ہیں کہ یہ دونوں باتیں اکثر ایک دوسرے کے باعث سے پیدا ہو جاتی ہیں۔کئی بہادر ایسے ہوتے ہیں کہ ان کی بہادری ان کی جھگڑالو اور فسادی طبیعت کا نتیجہ ہوتی ہے اور کئی بہادر ایسے ہوتے ہیں کہ ان کی بہادری ان کو لڑائی اور جھگڑے کا عادی بنا دیتی ہے لیکن آپ کی زندگی کے حالات بتاتے ہیں کہ آپ بہادر تھے لیکن آپ کی بہادری ایک نیک خلق کے طور پر تھی اور باوجود بہادر اور میدانِ کارزار میں ثابت قدم رہنے والا ہونے کے آپ کی طبیعت لڑائیوں اور جھگڑوں سے سخت متنفر تھی۔آپ کی عمر بھر کسی شخص نے کبھی آپ کو کسی سے جھگڑتے نہیں دیکھا۔ہر ایک معاملہ کو سہولت سے طے کرتے اور اگر کسی کو لڑتا دیکھتے بھی تو اُس حرکت سے اسے روک دیتے۔چنانچہ آپ کی اس نفرت کا یہ اثر تھا کہ صحابہ جنھیں رسول کریم ﷺ کے آخری زمانہ میں جنگ و جدل کے ساتھ ہی واسطہ پڑا رہتا تھا کبھی آپس میں لڑتے جھگڑتے نہ تھے اور ان کی طبیعت میں سختی اور درشتی پیدا نہیں ہوئی تھی کیونکہ ہر ایک ایسے واقعہ پر رسول صلى الله کریم ﷺ ان کو روک دیتے تھے۔برخلاف اس کے ہم دیکھتے ہیں کہ اکثر میدانِ جنگ کے بہادر مختلف لڑائیوں اور جھگڑوں سے بجائے گھبرانے کے ان میں مزہ حاصل صلى الله کرتے ہیں اور کئی لوگ تو خود لڑائی کرا کے تماشا دیکھتے ہیں۔مگر رسول کریم ہے عمر بھر با وجود بے نظیر بہادری کے لڑائیوں اور جھگڑوں سے سخت نفرت کرتے رہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ کے اندر ایک اور ہی روح تھی جو کام کر رہی تھی اور آپ اس دنیا کے لوگوں سے تعلق نہ رکھتے تھے بلکہ آپ آسمانی انسان تھے جس کا ہر کام