سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 270
سيرة النبي علي 270 جلد 1 میں اس کے احسانات کا بدلہ اتارتا۔چونکہ مطعم نے آپ کو اور آپ کے قبیلہ کو اس قید سے آزاد کرانے میں بہت کوشش کی تھی جس میں آپ بوجہ قریش کے غیر منصفانہ معاہدہ کے گرفتار تھے اور پھر اُس وقت جبکہ آپ کے دشمن آپ کو قسم قسم کی تکلیف پہنچانے پر آمادہ تھے آپ کو پناہ دی تھی آپ کی توجہ بدر کے قیدیوں کو دیکھ کر اور یہ خیال کر کے کہ وہ لوگ جو چند سال پہلے مجھے اپنے ہاتھ میں خیال کرتے تھے آج میرے ہاتھ میں گرفتار ہیں فورا مطعم کے اس احسان کی طرف گئی اور اس احسان کو یاد کر کے فرمایا کہ جس طرح مطعم نے ہمیں قید سے آزاد کروایا تھا اور دشمنوں کی تکلیف سے بچایا تھا آج اگر وہ زندہ ہوتا تو ایسے خطرناک دشمنوں کو میں اس کی سفارش سے قید سے آزاد کر دیتا اور ہر ایک تکلیف سے امن دے دیتا۔لڑائی سے نفرت بہت سی طبائع اس قسم کی ہوتی ہیں کہ وہ بہادری میں تو بے شک کمال رکھتی ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی ان میں ایک قسم کی سختی پیدا ہو جاتی ہے۔اور ان کی بہادری در حقیقت لڑائی اور جھگڑے کا نتیجہ ہوتی ہے اور بجائے ایک خلقی خوبی کے عادت کا نتیجہ ہوتی ہے جیسے کہ بعض ایسے ممالک کے لوگ جہاں امن و امان مفقود ہوتا ہے اور لوگ آپس میں لڑتے اور جھگڑتے رہتے ہیں عادتاً دلیر اور بہادر ہوتے ہیں لیکن ان کی بہادری کوئی نیک خلق نہیں ہوتی بلکہ روزانہ کی عادت کا نتیجہ ہوتی ہے جیسے کہ بعض جانور بھی بہادر ہوتے ہیں اور یہ بات ان کے اخلاق میں سے نہیں ہوتی بلکہ ان کی پیدائش ہی ایسے رنگ میں کی گئی ہے کہ وہ بہادر ہوں مثلاً شیر چیتا وغیرہ۔پس جو انسان کہ عادتا بہادر ہے یعنی ایسے حالات میں اس نے پرورش پائی ہے کہ اس کی طبیعت میں سختی اور لڑائی جھگڑے کی عادت ہو گئی ہے اس کی بہادری چنداں قابل قدر نہیں۔لیکن جو شخص کہ لڑائی اور جھگڑے سے نفرت رکھتا ہو موقع پر بہادری دکھائے اس کی بہادری قابلِ قدر ہے۔میں یہ تو پہلے بتا آیا ہوں کہ