سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 272
سيرة النبي علي 272 جلد 1 صلى الله آسمانی تھا۔رسول کریم ﷺ کی تمام زندگی ہی اس بات پر شاہد ہے کہ آپ لڑائی جھگڑے کو سخت ناپسند فرماتے تھے۔لیکن اس جگہ میں ایک دو مثالیں بھی دیتا ہوں جن سے آپ کے پاکیزہ نفس کا پتہ چلتا ہے۔عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُخْبِرَنَا بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ فَتَلَاحَى رَجُلَانِ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ فَقَالَ خَرَجْتُ لِأُخْبِرَكُمُ بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ فَتَلاحَى فُلَانٌ وَفُلَانٌ فَرُفِعَتْ وَعَسَى أَن يَكُوْنَ خَيْرًا لَكُمْ فَالْتَمِسُوْهَا فِي التَّاسِعَةِ وَالسَّابِعَةِ وَالْخَامِسَةِ 104 یعنی رسول کریم ﷺ ایک دفعہ اپنے گھر سے لیلۃ القدر کی خبر دینے کے لیے نکلے۔اتنے میں دو شخص مسلمانوں میں سے لڑ پڑے ( یعنی جب آپ نکلے تو دو شخصوں کو لڑتے پایا ) اس پر آپ نے فرمایا کہ میں لیلۃ القدر کی خبر دینے کے لیے نکلا تھا لیکن فلاں فلاں شخص لڑ رہے تھے جسے دیکھ کر مجھے بھول گیا کہ وہ رات کب ہو گی۔خیر شاید یہ بھی تمہارے لیے اچھا ہو تم اسے انتیسویں، ستائیسویں اور پچیسویں رات میں تلاش کرو۔تکبر سے اجتناب ایک مثال تو آپ کے تکبر سے بچنے کی میں پہلے دے چکا ہوں ایک اور دیتا ہوں اور انہی دونوں مثالوں پر کیا حصر ہے آنحضرت ﷺ کا ایک ایک عمل اس بات کی روشن مثال ہے کہ آپ تکبر سے کوسوں دور تھے لیکن جیسا کہ میں ابتدا میں لکھ آیا ہوں اس سیرت میں میں نے صرف اُس حصہ سیرت پر روشنی ڈالنی ہے جو اَصَحُ الْكُتُبِ بَعْدَ كِتَابِ اللہ بخاری سے ہمیں معلوم ہوتا ہے اور دوسرے جو واقعات پہلے بیان کیے جاچکے ہیں ان کے دوبارہ دہرانے سے بھی اجتناب کرنا مناسب ہے پس ان مجبوریوں کی وجہ سے صرف دو مثالوں پر ہی کفایت کی جاتی ہے جن میں سے ایک تو پہلے بیان ہو چکی ہے اور دوسری ذیل میں درج ہے۔حضرت ابو ہریرہ کا بیان فرماتے ہیں۔حَدَّثَنَا مُجَاهِدٌ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يَقُوْلُ أَ اللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ إِن كُنتُ