سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 269 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 269

سيرة النبي علي 269 جلد 1 اس کے کہ کوئی خدا کا بندہ چوری چھپے کوئی چیز دے جائے ان لوگوں کو ضروریات زندگی بھی میسر آنی مشکل ہو گئیں۔اور قریباً دو سال تک یہی معاملہ رہا۔اور بعض مؤرخ تو لکھتے ہیں کہ تین سال تک یہی حال رہا۔جب حالت انتہاء کو پہنچ گئی تو قریش میں سے پانی شخص اس بات پر آمادہ ہوئے کہ اس ظلم کو دور کیا جائے اور ان قیدیوں کو رہائی دلائی جائے۔چنانچہ انہوں نے آپس میں مشورہ کر کے ایک دن عین کعبہ کے پاس کھڑے ہو کر یہ اعلان کر دیا کہ اب ہم اس ظلم کو زیادہ نہیں دیکھ سکتے۔یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم لوگ تو پیٹ بھر کر کھانا کھا ئیں اور آرام سے زندگی بسر کریں مگر چند ہمارے ہی ہم قوم اسی طرح ہماری آنکھوں کے سامنے کھانے پینے سے تنگ ہوں اور با وجود قیمت دینے کے غلہ ان کے ہاتھ فروخت نہ کیا جائے۔ہم اس معاہدہ کی جو ایسے ظلم کو روا رکھتا ہے پابندی نہیں کر سکتے۔ان کا یہ کہنا تھا کہ بہت سے لوگ جن کے دل انصاف سے کورے نہ تھے ان کی تائید میں کھڑے ہو گئے اور آخر وہ معاہدہ پھاڑ کر پھینک دیا گیا اور آنحضرت ﷺ اور آپ کے قبیلہ کے لوگ اس قید سے آزاد ہوئے۔مطعم بن عدی بھی ان پانچ اشخاص میں سے ایک تھا اور یہی تھا کہ جس نے بڑھ کر اس معاہدہ کو پھاڑ کر پھینک دیا۔علاوہ ازیں جب آنحضرت علی طائف کے لوگوں کو دعوتِ اسلام دینے کے لیے تشریف لے گئے اور آپ سے وہاں کے بدمعاشوں نے سخت ظلم کا سلوک کیا اور آپ کے پیچھے لڑکے اور گتے لگا دیئے تو آپ کو واپس مکہ میں آنا پڑا۔لیکن یہ وہ وقت تھا کہ مکہ کے لوگ بھی سخت سے سخت شرارت پر آمادہ ہو رہے تھے اور آپ کو وہاں بھی امن ملنا مشکل تھا اُس وقت مطعم بن عدی نے آگے آ کر آپ کو اپنے جوار میں لیا اور اپنی ذمہ داری پر آپ کو پناہ دی۔یہ وہ احسانات تھے جو مطعم بن عدی نے آپ پر کیے تھے اور جبیر بن مطعم سے آپ کا مذکورہ بالا کلام ظاہر کرتا ہے کہ آپ کو ہمیشہ یہ خیال رہتا تھا کہ کاش ! وہ زندہ ہوتا اور