سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 268 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 268

سيرة النبي علي 268 صلى الله جلد 1 کو اپنے محسنوں کے احسانات کیسے یاد رہتے تھے اور آپ ان کا بدلہ دینے کے لیے تیار رہتے تھے۔حضرت جبیر فرماتے ہیں کہ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي أُسَارَى بَدْرٍ لَوْ كَانَ الْمُطْعِمُ بْنُ عَدِي حَيًّا ثُمَّ كَلَّمَنِي فِي هَؤُلَاءِ النتنى لَتَرَكُتُهُمْ لَهُ 103 یعنی نبی کریم ﷺ نے قیدیان بدر کے متعلق فرمایا کہ اگر مطعم بن عدی زندہ ہوتا اور ان ناشدنیوں کے حق میں سفارش کرتا تو میں ضرور ان کو چھوڑ دیتا۔یہ کیا ہی پیارا کلام ہے اور کن بلند خیالات کا اظہار کرتا ہے۔اسے وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جن کے سینوں میں احسانات کی قدر کرنے والا دل ہو۔شاید اکثر ناظرین مطعم بن عدی کے نام اور اس کے کام سے ناواقف ہوں اور خیال کریں کہ اس حدیث کا اس مضمون سے کیا تعلق ہے اس لیے میں اس جگہ مطعم بن عدی کا وہ واقعہ بیان کر دیتا ہوں جس کی وجہ سے آنحضرت مہ نے اس موقع پر مطعم بن عدی کو یاد فرمایا اور خواہش فرمائی کہ اگر آج وہ ہوتا تو میں ان قیدیانِ جنگ کو اس کی سفارش پر چھوڑ دیتا۔آنحضرت عل ہے جب مکہ میں تشریف رکھتے تھے تو ایک دفعہ ابو جہل اور اس کے چند ساتھیوں نے مشورہ کر کے قریش کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب سے خرید و فروخت اور نکاح وغیرہ کے معاملات بالکل ترک کر دیں صلى الله کیونکہ وہ آنحضرت علیہ کی حفاظت کرتے ہیں اور ان کو ان کے دشمنوں کے سپردنہیں عليسة کر دیتے کہ جس طرح چاہیں ان سے سلوک کریں۔چنانچہ اس مضمون کا ایک معاہدہ لکھا گیا کہ آئندہ کوئی شخص بنو ہاشم اور بنو مطلب کے ہاتھ نہ کوئی چیز فروخت کرے گا ، نہ ان سے خریدے گا اور نہ ان کے ساتھ کسی قسم کا رشتہ کرے گا۔اس بائیکاٹ کا نتیجہ یہ ہوا کہ قریش کے شر سے بچنے کے لیے آنحضرت ﷺ کے چچا ابو طالب کو مذکورہ بالا دونوں گھرانوں سمیت مکہ والوں سے علیحدگی اختیار کرنی پڑی۔اور چونکہ مکہ ایک وادی غَیرِ ذِي زَرْعٍ میں واقع ہے کھانے پینے کی سخت تکلیف ہونے لگی اور سوائے