سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 264
سيرة النبي علي 264 جلد 1 ایسا وسیع نہ ہو جیسا کہ اول الذکر کا وہ استقلال نہیں دکھا سکتے بلکہ چند دن سے زیادہ ان کے ارادہ اور ان کے عمل کو ثبات حاصل نہیں ہوتا۔اس جماعت کے خلاف ایک ایسی بھی جماعت ہے جو چھوٹے اور محدود الاثر معاملات میں تو خوب استقلال سے کام کر لیتے ہیں لیکن جب کسی مہتم بالشان کام پر اُن کو لگایا جاوے تو ان کا استقلال جاتا رہتا ہے اور وہ ہمت ہار بیٹھتے ہیں اور مفوضہ کام کو پورا کرنے کے اہل ثابت نہیں ہوتے۔پس ان دونوں گروہوں کو ہم گو صاحب استقلال تو کہیں گے لیکن ہمیں یہ بھی ساتھ ہی اقرار کرنا پڑے گا کہ اگر ایک استقلال کی ایک قسم سے محروم ہے تو دوسرا دوسری سے۔اور حقیقی طور پر صفت استقلال سے متصف انسان وہی ہو گا جو دونوں صورتوں میں اپنے استقلال کو ہاتھ سے نہ دے۔اور خواہ امور مہمہ ہوں یا امور محدود الاثر اس کا استقلال اپنا اثر ظاہر کیسے بغیر نہ رہے۔جب ہم آنحضرت ﷺ کی سوانح عمری پر نظر ڈالتے ہیں تو آپ استقلال کی ہر قسم میں کامل نظر آتے ہیں۔چنانچہ یہ بات کہ ان امور میں جنہیں آپ نے اپنی زندگی کا مقصد قرار دے لیا تھا آپ کیسے مستقل مزاج ثابت ہوئے ہیں پہلے لکھ آیا ہوں۔اس جگہ یہ بتانا چاہتا ہوں کہ شرک کی بیخ کنی اور حق کے پھیلانے میں ہی آنحضرت علی نے استقلال کا اظہار نہیں کیا بلکہ آپ کے تمام کاموں سے آپ کی کبھی نہ تھکنے والی طبیعت کا پتہ چلتا ہے۔چنانچہ حضرت عائشہ آپ کی اس عادت کی طرف ان الفاظ میں اشارہ فرماتی ہیں وَكَانَ يَقُوْلُ خُذُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيْقُوْنَ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوْا وَأَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا دُوْوِمَ عَلَيْهِ وَإِنْ قَلَّتْ وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً دَاوَمَ عَلَيْهَا 102 آپ فرمایا کرتے تھے کہ وہ عمل کیا کرو جس کے ادا کرنے کی تم میں طاقت ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نہیں ملول ہوتا یہاں تک کہ تم ملول نہ ہو جاؤ (یعنی جس قدر بھی دعا اور عبادت کرو اللہ تعالیٰ