سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 265
سيرة النبي علي 265 جلد 1 ثواب دینے سے نہیں رکھتا۔ہاں تم خود ہی تھک کر رہ جاؤ تو رہ جاؤ۔اس لیے اس قدر عمل مت کرو کہ آخر طبیعت میں نفرت پیدا ہو جائے اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے گنہگار الله بنو ) اور آنحضرت ﷺ کو نمازوں میں سب سے پیاری وہ نماز ہوتی تھی جس پر دوام صلى الله اختیار کیا جائے خواہ تھوڑی ہی ہو۔اور آنحضرت ﷺ جب کسی وقت نماز پڑھتے تھے تو پھر اُس وقت کو جانے نہ دیتے تھے ہمیشہ اُس وقت نماز پڑھتے رہتے۔حضرت عائشہؓ کی اس گواہی سے نہایت تین اور واضح طور سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ آنحضرت علی کا استقلال ہر رنگ میں کامل تھا۔اور خواہ بڑے کام ہوں یا چھوٹے آپ استقلال کو کبھی ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے۔چنانچہ اس شہادت سے مندرجہ ذیل نتائج نکلتے ہیں۔(1) صحابہ کو استقلال کا سبق پڑھانا اور ہمیشہ انہیں استقلال کی تعلیم دیتے رہنا کیونکہ طاقت سے بڑھ کر کام کرنے کا نتیجہ ہمیشہ بے استقلالی ہوتا ہے اور آپ کا اس بات سے صحابہ کو روکنا درحقیقت انہیں استقلال کی تعلیم دینا تھا۔اور یہ آنحضرت ﷺ کی خصوصیت ہے جس میں کوئی نبی آپ کا شریک نہیں کہ آپ قرآن کریم کے طریق کے مطابق جب کبھی کسی نیکی کا حکم کرتے یا بدی سے روکتے تو ہمیشہ اس نیکی کے حصول کی آسان راہ ساتھ بتاتے۔یا اس بدی کا اصل باعث ظاہر کرتے تا کہ اس سے اجتناب کر کے انسان اُس بدی سے بچ جائے۔اور اسی اصل کے ماتحت آنحضرت ﷺ نے استقلال کی تعلیم بھی صحابہ کو دی۔یعنی انہیں منع فرما دیا کہ جس کام کو آخر تک نباہنا مشکل ہو اُس پر اپنی خوشی سے ہاتھ مت ڈالو کہ اس طرح رفتہ رفتہ بے استقلالی کی عادت تم میں پیدا نہ ہو جائے۔(2) اس شہادت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ خود بھی اس تعلیم پر عمل پیرا تھے اور اسی عبادت کو پسند فرماتے جس پر دوام ہوسکتا ہو۔خواہ وہ تھوڑی ہی ہو۔اور اس طرح اپنے عمل سے اس بات کا ثبوت دیتے کہ آپ کسی کام میں خواہ چھوٹا ہو خواہ بڑا الله