سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 263
سيرة النبي علي 263 جلد 1 ہم نے مختصراً آنحضرت ﷺ کی زندگی سے ثابت کیا تھا کہ آپ میں استقلال کا مادہ ایسے درجہ تک پایا جاتا تھا کہ اس کی نظیر دنیا میں ملنی مشکل ہے۔اب ہم اسی مضمون کو ایک اور پیرایہ میں بیان کر کے آپ کے استقلال کے ایک اور پہلو پر روشنی ڈالنا چاہتے ہیں۔جن لوگوں نے انسان کے اخلاق کا وسیع مطالعہ کیا ہے اور اس کی مختلف شاخوں پر نظر امعان ڈالی ہے وہ جانتے ہیں کہ عوام میں جو اخلاق مشہور ہیں ان سے بہت زیادہ اخلاق انسان میں پائے جاتے ہیں۔لیکن قلت تذبر یا اخلاق کی کثرت کی وجہ سے یا تو سب اخلاق ابتدا میں معلوم نہیں ہو سکے یا یہ کہ ان میں سے ایک قسم کے اخلاق کا نام ایک ہی رکھ دیا گیا ہے۔اور اخلاق کی چند انواع مقرر کر کے ان کے نام رکھ دیئے گئے ہیں اور آگے ان کی شناخت اسماء کی بجائے تعریف ہی کافی سمجھ لی گئی ہے۔استقلال جو ایک نہایت مفید اور دوسرے اخلاق کو چھکا دینے والا خلق ہے اس کی بھی کئی اقسام ہیں جن کا نام لغت میں موجود نہیں بلکہ سب اقسام کو استقلال کے نام سے ہی یاد کیا جاتا ہے۔لیکن انسانی اخلاق کا وسیع مطالعہ کرنے سے ہمیں یہ بات واضح طور پر معلوم ہو جاتی ہے کہ اس خلق کی بھی کئی قسمیں ہیں۔جن میں سے دو بڑی قسمیں یہ ہیں کہ ایک استقلال وہ ہوتا ہے جس کا ظہور بڑے کاموں میں ہوتا ہے اور دوسرا وہ جس کا ظہور چھوٹے کاموں میں ہوتا ہے۔چنانچہ انسانوں میں دو قسم کے انسان پائے جاتے ہیں۔بعض ایسے ہیں کہ اہم اور وسیع الاثر معاملات میں جب وہ لگ جاتے ہیں تو گوان کے راستہ میں خطرناک سے خطرناک مصائب پیش آئیں وہ اپنے کام سے دست برداری نہیں کرتے اور گل دنیا کی مخالفت کے باوجود اپنا کام کیے جاتے ہیں۔لیکن انہی لوگوں میں بعض ایسے پائے جاتے ہیں کہ روزمرہ کے کاموں میں جو نسبتاً کم اہمیت رکھتے ہوں یا ان کا دائرہ اثر۔