سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 262 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 262

سيرة النبي علي 262 جلد 1 سکے، نہ شام کے مسیحی اس کے جوش کو کم کر سکے، نہ ایران کے مجوسی اس کو سست کر سکے اور نہ مدینہ اور خیبر کے یہود اس کی راہ میں روک بن سکے۔ہر ایک دشمنی، ہر ایک عداوت ، ہر ایک مخالفت ، ہر ایک تکلیف کا مقابلہ کرتے ہوئے وہ آگے ہی آگے بڑھتا چلا گیا اور ایک منٹ کے لیے بھی اس نے اپنی آواز نیچی نہ کی۔حتی کہ وفات کے وقت بھی یہی نصیحت کرتا گیا کہ دیکھنا ! خدا تعالیٰ کا شریک کسی کو نہ بنانا اور وہ وحدہ لاشریک ہے کوئی چیز اس کے برابر نہیں حتی کہ سب انسانوں سے افضل محمد ﷺ بھی اس کا ایک بندہ اور رسول ہے۔اس کی قبر کو بھی دوسری قوموں کے دستور کے مطابق مسجد نہ بنا لينا 101 - کیا اس استقلال کا نمونہ دنیا میں کسی اور انسان نے بھی دکھایا ہے؟ کیا ایسے مخالفانہ حالات کے مقابلہ پر ایسا فولادی عزم کسی نے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے؟ نہیں اور ہر گز نہیں۔لوگ ذرا ذرا سا کام کر کے تھک جاتے ہیں اور تھوڑی سی تکلیف دیکھ کر گھبرا جاتے ہیں بلکہ بغیر تکلیف کے بھی کسی کام پر اس قدر عرصہ تک متواتر توجہ نہیں کر سکتے جس کا نمونہ آنحضرت ﷺ نے دکھایا ہے اور جس نمونہ کو دیکھ کر نہ صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے جس کام کو اپنے ذمہ لیا تھا اُس کی خوبی اور بہتری پر دل سے یقین رکھتے تھے کیونکہ اس قدر لمبے عرصہ تک باوجود اس قدر تکالیف کے کوئی انسان ایک ایسے امر پر جسے وہ جھوٹا خیال کرتا ہو قائم نہیں رہ سکتا بلکہ یہ بھی کھل جاتا ہے کہ وہ کونسی طاقت تھی جس سے کام لے کر آپ نے ایسی جماعت پیدا کر دی تھی جس نے باوجود قلت تعداد کے سب دنیا کو فتح کر لیا تھا۔وہ آپ کا استقلال اور آپ کا عمل ہی تھا جس نے اُن مٹھی بھر آدمیوں کو جو آپ کی صحبت میں رہنے والے تھے گل دنیا کی اصلاح کے کام کے اختیار کرنے کی جرات دلائی۔اور صرف جرات ہی نہیں دلائی بلکہ آخر دم تک ایسا آمادہ کیے رکھا کہ انہوں نے دنیا کی اصلاح کا کام کر کے بھی دکھا دیا۔مگر افسوس ! کہ اب مسلمانوں میں وہ روح کام نہیں کرتی۔