سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 261 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 261

سيرة النبي علي 261 جلد 1 وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَرُ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرُ 100 اس حکم کا نازل ہونا تھا کہ وہ جو باوجود ہزاروں احتیا جوں اور سینکڑوں شغلوں کے اپنے بیوی بچوں کو خدا کے سپر د کر کے وحدہ لا شریک خدا کی پرستش میں مشغول تھا اور دنیا وَمَا فِيْهَا سے بے تعلق تھا شہر سے دور راہ سے علیحدہ ایک پہاڑی کی چوٹی پر چڑھ کر پھر دوسری طرف چند گز نیچے اتر کر ایک پتھر کے نیچے بیٹھ کر ، تا دنیا اس کی عبادت میں مخل نہ ہو عبادت الہی کیا کرتا تھا اور انسانوں سے ایسا متنفر تھا گویا وہ سانپ ہیں یا اثر رہا، دنیا کے سامنے آتا ہے اور یا تو وہ دنیا سے بھاگتا تھا یا اب دنیا اس سے بھاگ رہی ہے اور اس کے نز دیک کوئی نہیں جاتا۔مگر وہ ہے کہ ہر ایک گھر میں گھستا ہے، ہر ایک شخص کو پکڑ کر کھڑا ہو جاتا ہے، کعبہ کے میدان میں کھڑا رہتا ہے تا کہ کوئی شخص طواف کرنے کے لیے گھر سے نکلے تو اُس سے ہی کچھ بات کر سکوں۔قافلے آتے ہیں تو لوگ تو اس لیے دوڑے جاتے ہیں کہ جا کر کچھ غلہ خرید لائیں یا جو اسباب تجارت وہ لائے ہیں اُسے اپنی ضرورت کے مطابق خرید لیں۔لیکن یہ شخص کسی تجارت کی غرض سے نہیں بلکہ ایک حق اور صداقت کی خبر دینے کے لیے ان سے بھی آگے آگے دوڑا جاتا ہے۔اور اس کا پیغام کیا ہے جو ہر ایک انسان کو پہنچانا چاہتا ہے؟ وہ پیغام لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَہ ہے جس سے عرب ایسی وحشت کھاتے تھے کہ اگر کان میں یہ آواز پڑ لَهُ جاتی تو کان میں انگلیاں دے لیتے تھے اور جس کے منہ سے یہ الفاظ سنتے اُس پر دیوانہ وار لپک پڑتے اور چاہتے کہ اسے ایسی سزا دیں کہ جس سے بڑھ کر اور سزا ناممکن ہو۔مگر با وجود عربوں کی اس مخالفت کے وہ تنہائی پسند انسان، غارحرا میں دن گزار نے والا انسان جب موقع پاتا یہ پیغام ان کو سنا تا۔اور کسی مجلس یا کسی جماعت کا خوف یا رعب اسے اس پیغام کے پہنچانے میں روک نہ ہو سکتا۔یہ کام اس نے ایک دن نہیں ، دو دن نہیں، مہینہ نہیں، دو مہینہ نہیں اپنی وفات کے دن تک کیا اور باوجود سب دنیا کی مخالفت کے اپنے کام سے باز نہ آیا۔نہ عرب کے مشرک اس کو باز رکھ