سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 257 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 257

سيرة النبي علي صلى الله۔257 جلد 1 ے کے اخلاق کی برتری دکھائی ہے۔اور آپ کی تعلیم کو کبھی بھی پیش نہیں کیا تا کہ کوئی شخص یہ نہ کہہ دے کہ ممکن ہے آپ لوگوں کو تو یہ کہتے ہوں اور خود نہ کرتے ہوں نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَالِک۔پس اس جگہ بھی میں آپ کی اس تعلیم کو پیش نہیں کرتا جو آپ نے صبر کی نسبت اپنے اتباع کو دی ہے اور جس میں کرب وگھبراہٹ اور ناامیدی کے اظہار سے منع کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی قضا پر رضا کا حکم دیا ہے بلکہ صرف آپ کا عمل پیش کرتا ہوں۔عَنْ أَسَامَةَ بنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ أَرْسَلَتْ بِنْتُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ إِنَّ ابْنَا لِى قُبِضَ فَأْتِنَا فَأَرْسَلَ يُقْرِءُ السَّلَامَ وَيَقُوْلُ إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطى وَكُلٌّ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى فَلْتَصْبِرُ وَلْتَحْتَسِبُ فَأَرُسَلَتْ إِلَيْهِ تُقْسِمُ عَلَيْهِ لَيَأْتِيَنَّهَا فَقَامَ وَمَعَهُ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ وَمَعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَرِجَالٌ فَرُفِعَ إِلَى رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّبِيُّ وَنَفْسُهُ تَتَقَعْقَعُ قَالَ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ كَأَنَّهَا شَنُّ فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ فَقَالَ سَعْدٌ يَا رَسُولَ اللهِ مَا هذَا فَقَالَ هَذِهِ رَحْمَةٌ جَعَلَهَا اللهُ فِي قُلُوبِ عِبَادِهِ وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ99 اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیٹی نے آپ کو کہلا بھیجا کہ میرا ایک بچہ فوت ہو گیا ہے آپ تشریف لائیں۔(فوت ہو گیا‘ سے یہ مراد تھا کہ نزع کی حالت میں ہے کیونکہ وہ اُس وقت دم تو ڑ رہا تھا ) پس آپ نے جواب اس طرح کہلا بھیجا کہ پہلے میری طرف سے اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ کہنا اور پھر کہنا کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ لے لے وہ بھی اُسی کا ہے اور جو دیوے وہ بھی اُسی کا ہے اور ہر چیز کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور ایک مقررہ مدت ہے پس چاہیے کہ تم صبر کرو اور اللہ تعالیٰ سے ثواب کی امیدوار رہو۔اس پر آپ نے (حضرت کی صاحبزادی نے ) پھر کہلا بھیجا کہ آپ کو خدا کی قسم آپ ضرور میرے پاس تشریف لائیں۔پس آپ کھڑے ہو گئے اور آپ کے ساتھ سعد بن عبادہ اور معاذ بن جبل اور ابی بن کعب اور زید بن ثابت اور کچھ اور