سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 258 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 258

سيرة النبي علي 258 جلد 1 لوگ تھے۔جب آپ وہاں پہنچے تو آپ کے پاس وہ بچہ پیش کیا گیا اور اس کی جان سخت اضطراب میں تھی اور اس طرح ہلتا تھا جیسے مشک۔اس کی تکلیف کو دیکھ کر آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے جس پر سعد بن عبادہ نے کہا یا رسول اللہ ! یہ کیا ؟ آپ نے جواب دیا کہ یہ رحمت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں میں پیدا کیا ہے اور سوائے اس کے نہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے رحیم بندوں پر ہی رحم کرتا ہے۔یہ واقعہ اپنے اندر جو ہدایتیں رکھتا ہے وہ تو اس کے پڑھتے ہی ظاہر ہوگئی ہوں گی مگر پھر بھی مزید تشریح کے لیے میں بتا دیتا ہوں کہ اس واقعہ نے آپ کی صفت صبر کے دو پہلوؤں پر ایسی روشنی ڈالی ہے کہ جس کے بعد آپ کے اسوہ حسنہ ہونے میں کوئی شک و شبہ رہ ہی نہیں سکتا۔اول تو آپ کا اخلاص باللہ اس واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے کیونکہ جس وقت آپ کو اطلاع دی گئی کہ آپ کا نواسہ نزع کی حالت میں ہے اور اس کی حالت ایسی بگڑ گئی ہے کہ اب اس کی موت یقینی ہوگئی ہے تو آپ نے کیا پُر حکمت جواب دیا ہے کہ جو خدا تعالیٰ لے لے وہ بھی اس کا مال ہے اور جو دے دے وہ بھی اس کا مال ہے۔رضا بالقضا کا یہ نمونہ کیسا پاک، کیسا اعلیٰ ، کیسا لطیف ہے کہ جس قدر اس پر غور کیا جائے اسی قدر کمال ظاہر ہوتا ہے۔پھر اپنی صاحبزادی کو نصیحت کرنا کہ صبر کرو اور اللہ تعالیٰ سے ثواب کی امید رکھو اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور احسانوں پر انتہائی درجہ کے یقین اور امید پر دلالت کرتا ہے۔مگر صرف یہی بات نہیں بلکہ اس واقعہ سے ایک اور بات بھی ظاہر ہوتی ہے اور وہ یہ کہ آپ کا صبر اس وجہ سے نہ تھا کہ آپ کا دل نَعُوذُ بِالله سخت تھا بلکہ صبر کی وجہ اللہ تعالیٰ کے احسانوں پر امید اور اس کی مالکیت پر ایمان تھا کیونکہ جیسا کہ بیان ہو چکا ہے جب آپ اپنی صاحبزادی کے گھر پر تشریف لے گئے تو آپ کی گود میں تڑپتا ہوا بچہ رکھ دیا گیا اور آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔سعد بن عبادہ نے غلطی سے اعتراض کیا کہ یا رسول اللہ ! یہ صبر کیسا ہے کہ آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں۔آپ نے کیا لطیف جواب دیا کہ رحم اور چیز ہے اور