سیرت النبی ﷺ (جلد اوّل) — Page 253
سيرة النبي علي 253 جلد 1 سے بہت دور بھاگتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے قرب کو حاصل کرنے میں کسی سختی یا کسی مشکل کے برداشت کرنے سے نہیں گھبراتے) پھر فرماتی ہیں کہ آپ کی یہ بھی عادت تھی کہ آپ اپنے نفس کے لیے کبھی انتقام نہ لیتے۔یعنی خلاف منشا امور کو دیکھ کر جب تک وہ خاص آپ کی ذات کے متعلق ہوتے تحمل سے ہی کام لیتے ، خفگی ، ناراضگی یا غضب کا اظہار نہ فرماتے۔نہ سزا دینے کی طرف متوجہ ہو جاتے۔ہاں جب آپ کی ذات کے متعلق کوئی امر نہ ہو بلکہ اس کا اثر دین پر پڑتا ہو اور کسی دینی مسئلہ کی ہتک ہوتی ہو اور اللہ تعالیٰ کی شان پر کوئی دھبہ لگتا ہو تو آپ اُس وقت تک صبر نہ کرتے جب تک اس کا انتقام لے کر اللہ تعالیٰ کے جلال کو ظاہر نہ فرما لیتے اور شریر انسان کو جو ہتک حرمتہ اللہ کا مرتکب ہوا ہوسزا نہ دے لیتے۔اس واقعہ سے صاف ظاہر ہو جاتا ہے کہ آپ کا تحمل اس درجہ تک پہنچا ہوا تھا کہ آپ کبھی بھی اپنے نفس کے لیے جوش کا اظہار نہ فرماتے بلکہ تحمل اور بردباری سے ہی ہمیشہ کام لیتے۔لیکن یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ یہ بات قطعاً درست نہیں کہ آپ میں جوش و انتقام کی صفت پائی ہی نہ جاتی تھی اور آپ پیدائش سے ہی ایسے نرم مزاج ہوئے تھے کہ غضب آپ میں پیدا ہی نہیں ہو سکتا تھا بلکہ جب اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حرمتوں کی ہتک اور بے حرمتی کا سوال پیدا ہوتا تو آپ ضرور انتقام لیتے تھے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا تحمل کسی پیدائشی کمزوری یا نقص کا نتیجہ نہ تھا بلکہ آپ اپنے اخلاق کی وجہ سے اپنے نفس کے قصوروں سے چشم پوشی کر جاتے تھے اور اظہار نا راضگی سے اجتناب کرتے تھے۔اور جو کچھ کہنا بھی ہوتا تھا تو نہایت آہستگی اور نرمی سے کہتے تھے۔اور ایسا جواب دیتے تھے جس میں بجائے ناراضگی اور غضب کے اظہار کے اس شخص کے لیے کوئی مفید سبق ہو جس سے وہ اپنی آئندہ زندگی میں اپنے واقع چال چلن کی اصلاح کر سکے اور یہی تحمل کا اعلیٰ نمونہ ہے۔یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ حضرت عائشہ کی یہ شہادت بلا دلیل نہیں ہے بلکہ واقعات